کیا لکھوں، احساس ندامت سے جھکا ہے سر مرا

Posted by admin  /   June 11, 2014  /   Posted in انور عباس انور, تبصرے  /   No Comments

(خا ص لوگ:انور عباس انور)karachi-attack

ابھی کراچی ائرپورٹ پر دہشت گردوں کے لگائے زخموں سے لہو رس رہا تھا کہ اے ایس ایف کے کیمپ پر ہوائی فائرنگ کی اطلاع نے پوری قوم پر سکتہ طاری کردیا۔۔۔اللہ کا شکریہ ہے کہ ہماری سکیورٹی کے ذمہ داروں کو جلد خبر ہوگئی کہ یہ اے ایس ایف کے کیمپ پر حملہ نہیں بلکہ ہوائی فائرنگ تھی۔۔۔حالانکہ فوج کے دستوں نے مورچے سنبھال لیے تھے، رینجرز حرکت میں آ گے اور میدان میں بھی چلے گے تھے، لیکن ذمہ داروں کو احساس ہوا کہ حملے اور ہوائی فائرنگ میں فرق ہوتا ہے۔سب سے پہلے ملیر کے ایس پی راو انوار نے قوم کو بتایا کہ یہ حملہ نہیں ہے۔

دہشت گردوں نے کراچی کے جناح ائرپورٹ کے اندر گھس کر ایکشن کیا۔۔۔اتوار کی رات گیارہ بجے اے ایس ایف کی وردیوں میں ملبوس دہشت گرد پانچ دہشتگرد فوکر گیٹ کے اصفہانی ہینگر کی جانب سے اور پانچ دہشت گرد کارگو ٹرمینل کی جانب سے ائرپورٹ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے،جہاں پانچ اے ایس ایف کے جواں ہمت جوانوں نے انتہائی دلیری و بہادری سے دہشتگردوں کو روکا، لیکن دہشت گرد کی کارروائی میں شہید ہوئے گے۔

بتایا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کی منزل نیا ٹرمینل تھا، جہاں مسافروں کو لیکر جانے کے لیے طیارے تیار کھڑے تھے،مگر ہمارے بہادر جوانوں نے اپنی جان پر کھیل کر دہشت گردوں کو ان کے ناپاک عزائم میں ناکام بنایا،اگر طیارے اغوا کر لیے جاتے تو پھر کیا ہوتا؟ کسی کی سمجھ میں کوئی بات آئے یا نہ آئے ۔۔۔میں بتا دیتا ہوں اغوا کار تما گرفتار طلبان کی رہائی کے ساتھ ساتھ ملک میں نفاذ اسلام کا مطالبہ بھی رکھتے اور ۔۔۔اور۔۔۔ اور بھی بہت کچھ تھیلا سے باہر آجاتا۔ اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل کی جاتی۔۔۔۔۔۔!!!!

اس سارے قضیے میں میرے اور دیگر محبان وطن کے لیے باعث حیرت وزیر داخلہ چودہری نثار علی خاں کا پراسرار رویہ ہے،اطلاعات کے مطابق کراچی ائرپورٹ پر حملے کے بعد ساری رات وزیر اعظم نواز شریف انھیں تلاش کرتے رہے ،مگر انکا کہیں سے بھی سراغ نہ لگا۔۔۔ وزیر داخلہ اس قدر اہم موقعہ پر کہاں تھے؟ بقول ایک وزیر کے کہ چودہری نثار کچھ عرصہ سے حکومت کے لیے در د سر بنے ہوئے ہیں۔۔۔اگر تو یہ اطلاعات اور خبریں صحیح ہیں تو چودہری نثار علی خاں سے وزارت داخلہ کی ذمہ داریاں واپس لینے کے مطالبات حق پر اور درست ہیں۔
اب تک شائع ہونے والی خبروں میں ایک بھی خبر کم از کم میری نظر سے نہیں گزری کہ جس میں جماعت اسلام کے سابق امیر سید منور حسن، مولانا فضل الررحمان اور طلبان کے مائی باپ مولانا سمیع الحق کی جانب سے کراچی ائر پورٹ پر حملے کی مذمت کی گئی ہو۔۔۔میرا اور سابق ایم این اے اور ضلع کونسل شیخوپورہ کے سابق ناظم میاں جلیل احمد شرقپوری کا ان راہنماوں سے سوال ہے ،کہ کیا آپ اب بھی ان دہشت گردوں کو مسلمان سمجھتے ہیں؟ کیا آپ اس حملے کی مذمت کرتے ہیں؟

کیا کب بھی آپ ان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن نہ کرنے کے حامی ہیں؟ اور اب بھی مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہے؟کراچی ائر پورٹ اور اے ایس ایف کے کیمپ پر ہوائی فائرنگ کی ذمہ داری تو عمر خراسانی نے قبول کرلی ہوئی ہے،کیا آپ اب بھی جناح ائرپورٹ پر حملے کو امریکہ اور بھارت کی کارروائی قرار دینے پر مصر ہیں؟

حکومت کو اب مذاکرات کے ڈرامے بازی کو بند کرنا چاہئیے اور پوری قوت سے دہشت گردوں کے خلاف اپریشن کا آغاز کرنا ہوگا۔اگر اب بھی انھیں ڈھیل دی گئی تو بات دور تک چلی جائے گی۔

ایک طرف تو یہ حالات ہیں اور دوسری طرف ہمارے نمائیندے کیا سوچ رہے ہیں؟ آئیے ان کا اندازہ کرتے ہیں۔ایک خبر یہ ہے ،کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کیا گیا اضافہ ناکافی قرار دے دیا۔۔۔دوسری خبر یہ ہے، کہ پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے ارکان پارلمنٹ کی تنخواہیں گریڈ 22 کے سرکاری ملازم کے برابر کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔آگے قارئین آپ خود اندازہ لگا لیں کہ ہمارے نمائندے کس قدر پاکستان کو فرپیش مسائل سے سنجیدہ ہیں؟ کیا اب بھی ہمارے حکمرانوں کو ’’ سارھی اور شال ‘‘ کی سیاست کرتے رہنا چاہئیے؟

Post a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

.Copyright ©2011-2014 Top Story Online