آفتاب اقبال کو جیو کی یاد ستانے لگی

Posted by admin  /   May 14, 2014  /   Posted in فن فنکار  /   1 Comments

aftabلاہور(انجم کاظمی) جیو ٹی وی چینل کے معروف پروگرام ’’خبرناک ‘‘ کے اینکر آفتاب اقبال نے’’ جیو ‘‘واپسی کے لئے کوششیں شروع کردی ہیں، جیو کے چیف میر شکیل الرحمٰن نے آفتاب اقبال کو دبئی بلا لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر ملاقات میں معاملات طے پا گئے تو آفتاب اقبال جمعہ تک جیو دوبارہ جوائن کرلیں گے۔

تفصیلات کے مطابق حالات حاضرہ کے مزاحیہ پروگرام ’’خبر ناک‘‘ کے میزبان آفتاب اقبال نے جیو میں واپسی کے لئے کوششیں شروع کردی ہیں۔ وہ میر شکیل الرحمٰن سے ملاقات کے لئے دبئی روانہ ہوگئے ہیں، میر شکیل نے انہیں دبئی آکر ملاقات کرنے کے لئے کہا تھا۔

اتوار کو جیو پر نشر ہونے والے خبرناک کی میزبانی آفتاب اقبال کی بجائے محمد علی میر نے کی ۔ ٹاپ سٹوری آن لائن آفتاب اقبال کے استعفے کی خبر پہلے ہی بریک کر چکی ہے اور اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ آفتاب اقبال کی جگہ محمد علی میر میزبان ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آفتاب اقبال نے استعفٰی دینے کے ساتھ ہی ایک اور نجی ٹی وی چینل کے ساتھ اپنے معاملات طے کرلئے تھے مگر جیو سے استعفے کے بعد ان کے معاملے خراب ہوگئے اور اس پروگرام کی میزبانی آفتاب اقبال کے بجائے وصی شاہ کو دیدی گئی جس پر آفتاب اقبال نے مایوس ہوکر جیو واپسی کے لئے دوڑ دھوپ شروع کردی۔

12مئی بروز پیر کو معاہدے کے تحت نوٹس پیریڈ کے بعدپروگرام خبرناک کی ریکارڈنگ شروع ہوئی تو اس کی میزبانی آفتاب اقبال کررہے تھے مگر کچھ دیر بعد ہی جیو کی اعلیٰ انتظامیہ نے پروگرام کی ریکارڈنگ رکوادی جس کے بعد آفتاب اقبال پریشان ہوئے بعدازاں آفتاب اقبال کو دبئی جاکر جیو کے چیف میر شکیل الرحمٰن سے ملاقات کرنے کا کہا گیا اور پیغام دیا کہ آپ کو میر صاحب نے دبئی میں ’’یاد‘‘ کیا ہے۔

’’خبر ناک‘‘کا شمار جیو کے مقبول پروگراموں میں ہوتا ہے ۔ جیو کے ناظرین بھی آفتاب اقبال کو پسند کرتے ہیں۔ اس لیے نا تو جیو کی انتظامیہ چاہے گی کہ وہ ان کا چینل چھوڑ دیں اور نہ ہی اب آفتاب اقبال کے پاس فوری کوئی آپشن ہے، جس دوسرے نجی ٹی وی چینل طے ہوئے تھے وہ کھٹائی میں پڑ گئے ہیں۔

One Comment

  1. خرم شہزاد اعوان January 27, 2016 12:10 am Reply

    وہ تو اب ایکسپریس چینل پر پروگرام کر رہے ہیں

Post a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

.Copyright ©2011-2014 Top Story Online