ایک نمبر پاکستان میں دو نمبر لوگوں کے دھندے

Posted by admin  /   June 17, 2014  /   Posted in slider, انور عباس انور  /   1 Comments

(خا ص لوگ: انور عباس انور)con-artist

پاکستان بنا تو اس وقت اسکی تقدیر کے مالک ایک نمبر لوگ تھے، قوم کے باپ کے آنکھ میٹتے ہی پچھلی صفوں میں گھسے دو نمبر لوگوں نے آگے بڑھنا شروع کردیا۔۔۔ پہلے یہ دو نمبر لوگ ( بیوروکریٹ + سیاستدان) پیچھے بیٹھ کر مملکت خدادا پاکستان اور جمہوریت کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔۔۔ لیکن جب بیروکریسی کے امام غلام محمد نے گورنر جنرل کا منصب سنبھالا تو ان کے ہمنواوں کو کھل کر کھیلنے کے مواقع دستیاب ہو گے۔ ان سازشی عناصر نے ایک ایک کرکے محب وطن اور قیام پاکستان میں اپنا سمجھ ’’ خرچ ‘‘ کرنے والی سیاسی قیادت کو کونوں کھدروں میں لگانا شروع کر دیا۔

بیوروکریسی کے اس امام غلام محمد نے پاکستان کی وحدت اور جمہوریت پر شب خون 24 اکتوبر 1954کو اسمبلی توڑ کر مارا، بس اس کے بعد دو نمبری کی ایسی حوصلہ افزائی کا آغاز ہوا کہ آج تک ہر پاکستانی دو نمبری پر اپنا کاروبار چلانے پر بضد ہے۔ بلکہ دو نمبری ہم سب کا اجتماعی مشن اور نصب العین بن چکا ہے ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ ایک نمبر کام کرکے کوئی بھی شخص راتوں رات امراء کی صف میں شامل نہیں ہو سکتا، اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ نہیں دے سکتا،اس کے لیے دو نمبری طریقہ مفید سمجھا جاتا ہے۔

ایک دو نمبر شخص کو امریکہ سے وزیر بناکر بھی ایک خصو صی طیارے میں پاکستان بھیجا گیا تو اس کے بعد تو امریکہ سے آنے والی ہر خصوصی پرواز کی اطلاع پر پاکستان کے دارالحکومت میں نئے سربراہ مملکت اور سربراہ حکومت کے استقبال کی تیاریاں شروع ہو جاتی تھیں۔سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کو آج درپیش حالات کو انھیں دونمبر سیاستدانوں نے پہنچایا ہے جو اقتدار کی گاڑی کے ہلارے لینے کے لیے امریکہ کی طرف دیکھتے رہے ہیں ۔اور آج بھی ادھر ہی دیکھتے ہیں۔

اس کے علاوہ جمہوریت کے ذریعے معرض وجود میں آنے والی مملکت خداداد پاکستان میں برسراقتدار آنے کے لیے ہمارے دو نمبر سیاستدانوں نے امریکہ کے علاوہ اپنے ’’جی ایچ کیو‘‘ کو بھی اپنی ہوس اقتدار کا مرکز بنانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ان اقتدار کے بھوکے سیاستدانوں نے ہوس اقتدار میں اندھے جنرلوں سے ملی بھگت کرکے اس ملک پر پینتیس برسوں سے زائد عرصہ ھکومت کی ہے۔جس سے ملک کو بے شمار مسائل سے دوچار ہونا پڑا ۔فوج کا لالچی اور دو نمبر سیاستدانوں کے اشتراک سے سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ مشرقہ پاکستان ہم سے الگ ہو گیا۔ بنگلہ دیش کے حالات ہم سے کہیں زیادہ بہتر ہیں۔ ہمارے ساتھ رہ کر مشرقی پاکستان کے عوام دو وقت کی روٹی کو ترستے تھے،لیکن آج وہ ہم سے بہت آگے نکل گے ہیں۔بنگلہ دیش ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے شکنجے سے آزاد ہے اور ہم بری طرح ان دونوں استعماری اداروں کے نرغے میں ہیں۔

دو نمبری ہمارے وجود میں اس طرح سرائیت کر چکی ہے،کہ مارکیٹ میں جس شے کو بھی ہاتھ لگاو دو نمبری ملے گی، دودھ میں پانی،دیسی گھی میں نہ جانے کن کن اشیا ء کی ملاوٹ کی جاتی ہے۔ سرخ مرچوں ،ہلدی ،گرم مصالحہ جات میں بھی دو نمبری واضح دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہماری لالچ اور ہوس زر نے زندگی بچانے والی ادویات کو جعلسازی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ ہماری زندگیاں اتنی سستی کر دی گئیں ہیں کہ لوگ مہنگے داموں جعلی ادویات خرید کر بھی اپنے پیاروں کو موت کی آغوش میں جانے سے نہیں بچا پاتے۔کاسمیٹکس کی تمام اقسام ۔۔۔نیل پالش، لپ سٹک، باڈی لوشن، شیونگ کریم، باڈی سپرے، پاوڈر، آفٹر شیونگ اور بیفور شیونگ استعمال کیا جانے والا لوشن ۔۔۔سب دو نمبر فروخت کیا جا رہا ہے۔

یہ سب کچھ عوام کو خالص اشیا فراہم کرنے پر مامور اداروں کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے، لیکن دونمبری کاروبار کرنے والے کسی خوف اور پریشانی سے آزاد اپنے اپنے کاروبار میں مگن ہیں
میں یہاں کس کس دونمبری کا ذکر کروں ۔۔۔ مذہب تک کو ہم نے نہیں بخشا ،اس میں بھی دو نمبری کرنے کو اپنی ذہانت قرار دیتے ہیں۔عام زندگی میں کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں۔ مذہب کی ایسی تصویر پیش کی ہے کہ لوگ مسلمان ہونے سے ڈرنے لگے ہیں۔ہمارے علما دین کے حجرے بدنام ہو رہے ہیں۔’’ لندن ،یورپ ،امریکہ سمیت دنیا بھر میں جہاں مدارس اور مساجد میں ہمارے پاکستانی علما ئے دین جاتے ہیں تو وہاں کے طلبہ پڑھائی چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔۔۔آخر ایسا کیوں ہے؟

ہمارے سماجی شخصیات دعوے تو عوام کی خدمت کرنے کے کرتے ہیں۔مگر انکے پیشرو شہرت اور دولت کا حصول ہی ہوتا ہے۔ تھانہ کچہری میں یہ سماجی راہنما ٹووٹوں کا کام کرتے ہیں ، تھانوں میں پولیس کو رشوت دیکر کر ملزمان کی رہا عمل میں لانا ان کا مقصد اولین ہوتا ہے۔ کچہریوں میں یہ دونمبری شہادتیں دیتے ہیں اور ملزمان کو رہائی دلاتے ہیں۔ پولیس اور کچہری کی دنیا میں انھیں ’’ معززیں شہر‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔اسے عرف عام میں ٹووٹ مافیہ کہا جاتا ہے۔ دو نمبر کرنسی کا چھاپنا بھی ایک پرانا دھندہ ہے۔ اپنی بہو بیٹیوں کو اغوا کرکے انھیں بیرون ملک اور اندرون ملک جسم فروشی پر لگانا اب معیوب نہیں گردانا جاتا بلکہ فخر کیا جاتا ہے کہ ’’ ہماری اتنی فیکٹریاں دبئی اور دیگر ممالک میں چل رہی ہیں۔

ہمارے فنکاروں نے اپنی ثقافت کو بیرون ملک پرموٹ کرنے کے نام پر اس کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دیا ہے ۔ثقافت کی بجائے عریانی اور فحاشی کو پیش کرکے پاکستان کو بدنام کیا جا رہا ہے ۔ ننگ دین اور ننگ وطن لڑکیوں کو ننگا پیش کرکے دولت سمیٹی جاتی ہے ،اور اس پر سر فخر سے بلند کیا جاتا ہے ۔اس سب کے باوجود پھر بھی ہم اپنے رب سے کاروبار میں ترقی کی دعائیں مانگتے ہیں۔

One Comment

  1. سعید انور ہیئوسٹن امریکہ September 14, 2014 1:20 am Reply

    بہت درست فرمایا،عرصہ دراز بعد لکھنے کا حوصلہ کررھا ھوں۔شریک محفل کب ہونگا دیکھتے ھیں۔

Post a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

.Copyright ©2011-2014 Top Story Online