توہین رسالت کے زیر حراست ملزمان کی ہلاکتیں

Posted by admin  /   June 11, 2014  /   Posted in انور عباس انور, تبصرے  /   No Comments

persecution(خا ص لوگ: انور عباس انور)

مئی کا مہینہ توہین رسالت ﷺ کے ملزمان اور دیگر سزا یافتہ قیدیوں کے لیے بہت سخت رہا ہے۔۔۔ شرقپور تھانہ کی حوالات میں بند شخص کو دن دیہاڑے قتل کردیا گیا۔۔۔ اٹک جیل میں توہین رسالت کے مقدمہ میں سزا یافتہ لاڑکانہ کے عبدالستار کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔۔۔ لاہور کی ایک جیل مین ایک قیدی کو جیل اہلکاروں نے سولی پر چڑھا دیا۔۔۔شیخوپورہ کی جیل میں ایک قیدی کو زہر دیکر مار ڈالا۔۔۔ ان واقعات نے حکومت پاکستان خصوصا پنجاب کی حکومت کی گڈ گورنس اور امن و امان کے حوالے سے تمام دعووں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

ضلع شیخوپورہ کی تحصیل شرقپور شریف کے نواحی گاوں بھوئیوال میں آباد ایک احمدی خاندان کے چار افراد کے خلاف تھانہ شرقپور میں سیکشن 295/A اور زیر دفعہ/C 337 اور 427 تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمہ درج ہوا جس کا مقدمہ نمبر /14 291 تاریخ4 12/05/201ہے۔ ملزمان کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج سے قبل لاہور جڑانوالہ روڈ کو بلاک کرکے احیجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس کی اطلاع پر ڈی پی او ضلع شیخوپورہ افضال کوثر ہمرا پولیس فورس موقعہ پر پہنچ گے ،احتجاجی مظاہرین سے مذاکرات کے بعد ایک دوکاندارسید ریاض حسین شاہ کی مدعیت میں ملزمان چار ملزمان مبشر ولد غلام رسول، خلیل احمد ولد فتح محمد، احسان ولد خلیل احمد اور غلام احمد ولد غلام نبی کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کر لیا گیا اور ایک ملزمان خلیل احمد ولد فتح محمد کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کردیا گیا ایف آئی آر جو درج کی گئی ہے وہ کچھ یوں ہے۔

’’ بخدمت جناب ایس ایچ او تھانہ شرقپور شریف شیخوپورہ درخواست برائے اندراج مقدمہ توہین رسالت برخلاف ملزمان مبشر غلام احمد۔خلیل احمد اور احسان۔۔۔جناب عالی سائل موضع بھوئیوال کا مستقل رہائشی ہوں ،س پرچون کی دوکان کرتا ہوں، کل مورخہ 12/05/2014 بروز سوموار بوقت 6بجے شام تقریبا اپنی دوکان پر موجودتھا، کہ ملزمان مبشر ولد غلام رسول،غلام احمد ولد گلام نبی،خلیل احمد ولد فتح محمد اور س احسان ولد خلیل احمد مذہب احمدی اقوام جٹ ساکنان بھوئیوال س سائل کی دوکان پر آئے اور دوکان کے کاونٹر نبی پاک کی شان میں چسپاں پفلٹکے متعلق پوچھنے لگے۔کہ کیوں لگایا گیا ہے۔کس نے لگایا ہے۔پھر مجھے پکڑ کر تھپڑ مارنے لگے اور میری ریش مبارک سے بھی پکڑاپھر پفلٹ مذکورہ کو اکھاڑ کر توہین کی اور نالی میں پھینک دیا،اس سارے واقعہ کو وہاں پر شور سن کر آنے والے اور دوسرے کئی اہل دہیہ نے بشم خود دیکھا،نبی پاک کی توہین پر مشتمل واقعہ مذکورہ سے جملہ اہل اسلام کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ملزمان کے خلاف حسب ضابطہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔۔۔العارض سید ریاض شاہ مذکور‘‘۔

پھر یکایک ایک سولہ سترہ سالہ میٹرک کا طالب علم اسی گاوں بھوئیوال سے اٹھتا ہے۔۔۔سیدھا لاہور کے لنڈا بازار پہنچتا ہے۔اور وہاں سے پولیس کی وردی خرید کر واپس شرقپور آتا ہے۔۔۔۔ پولیس وردی کو زیب تن کرکے سیدھا ناک کی سمت چلتا ہوا تھانہ شرقپور شریف پہنچتا ہے۔۔۔مین گیٹ عبور کرتا ہے اور حوالات کے سامنے جا کر کھڑا ہو جاتا ہے۔۔۔کسی نے اسے نہیں روکا اور نہ ہی ٹوکا ہے۔۔۔محمد سلیم نامی سولہ سترہ سالہ پولیس کی وردی میں ملبوس نوجوان حوالات کے باہر کھڑے ہوکر حوالاتیوں سے پوچھتا ہے۔۔۔ تم میں سے توہین رسالت کا ملزم کون ہے؟ ملزم خلیل یہ سمجھ کر کہ اسکی کوئی ملاقات آئی ہے اپنی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ’’میں ہوں‘‘۔۔۔ نشاندہی پر میٹرک کے طالب علم اپنے پسٹل سے اس پر فائرنگ کرنا شروع کر دیتا ہے۔۔۔ پولیس کی حراست میں۔۔۔!!!

تھانہ شرقپور کی حوالات میں خلیل احمد خون میں غلطان پڑا ہے۔۔۔ ہر طرف افراتفری مچ جاتی ہے۔۔۔تھانہ شرقپور کے تمام گیٹ بند کر دئیے جاتے ہیں۔۔۔ ملزم محمد سلیم کو گرفتار کرلیا جاتا ہے۔۔۔اسی دوران پولیس اور انتظامیہ کو خدشہ گھیر لیتا ہے کہ کہیں ملزم سلیم کے حامی کسی بڑے جلوس کی صورت میں پولیس اسٹیشن پر دھاوا نہ بو ل دیں۔۔۔ اور ملزم سلیم کو چھڑوا کر نہ لے جائیں۔اسی خدشے کے پیش نظر پولیس ملزم سلیم کو کسی نامعلوم مقام پر منتقل کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔۔۔ اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی کہ ملزم کو کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔اور اس سے تفتیش کے عمل کا آغاز ہوجاتا ہے۔۔۔پولیس ملزم سے اس امر کا کھوج لگانا چاہتی تھی کہ اس نے اتنا بڑا فیصلہ اور اقدام کس کے کہنے یا اکسانے پر اٹھایا ہے۔لیکن پولیس تفتیش میں اس نتیجے پر پہنچی کہ توہین رسالت کے ملزم کو تھانے کی حوالات میں قتل کرنے کا فیصلہ ملزم سلیم کا اپنا ذاتی فیصلہ تھا ۔اس کے پس پردہ کوئی اور قوت کا ہاتھ یا کردار نہیں۔

ایک مذہبی تنظیم سے تعلق رکھنے والے چند ’عاشقان رسول‘ صحافی دوستوں کے حوالے سے شرقپور کے صحافیوں سے ملنے آئے۔۔۔ان کا مقصد شرقپور کے مقامی صحافیوں کے توسط سے حوالات میں ملزم خلیل کو قتل کرنے والے ’’غازی سلیم‘‘ کی خبر گیری اور ملاقات کرنا تھا۔لیکن شرقپور شریف کے مقامی صحافیوں نے انہیں بتایا کہ انہیں خود علم نہیں کہ ملزم غازی سلیم کو پولیس نے کہاں رکھا ہوا ہے۔۔۔البتہ شرقپور آنے والے عاشقان نے تسلیم کیا کہ جب ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہو چکا تھا تو قانون کو ہاتھ میں لینے کی چنداں ضرورت نہ تھی۔

یہاں تک تو سب کچھ قابل برداشت ہو سکتا ہے۔۔۔لیکن جب ملزم پولیس کی حراست میں ہو اور باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہو۔۔۔معلوم ہوا ہے کہ باقی ملزمان توہین رسالت نے عبوری ضمانتیں منظور کروا رکھی ہو۔۔۔ تو ان حالات میں ملزمان کو خود سزا دینے کا فیصلہ کیونکر کیا گیا؟۔۔۔ پھر ان حالات میں جب ملزمان پر ابھی الزام الزام ہی ہے ۔جرم ثابت نہیں ہوا۔

اسی طرح اٹک کی جیل میں توہین رسالت کے مقدمہ میں سزا یافتہ لاڑکانہ کے محلے ولید کالونی کے عبدالستار نامی قیدی کو جیل اہلکاروں نے تشدد کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔۔۔ابھی چند روز پیشتر ہی اسے اڈیالہ جیل سے اسی خدشے کے پیش نظر اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا

تھانہ شرقپور شریف میں ملزم خلیل کے قتل کے بعد شیخوپورہ جیل ہی میں قیدیوں نے ایک ملزم کو زہر دیکر جان سے مار ڈالا۔۔۔ یہ بھی خبر اخبارات کی زینت بنی اور الیکٹرانک میڈیا پر نشر ہوئی ہے کہ لاہور کی ڈسٹرکٹ جیل میں بھی قیدیوں نے ایک قیدی کو پھانسی دیکر اسکی حیاتی کا چراغ گل کردیا ہے ۔۔۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کی اتنی مستعدی کے باوجود جیلوں میں زہر اور آتشیں اسلحہ کیسے جیل کے اندر پہنچ جاتا ہے؟ کیا حکومت تھانوں اور جیلوں میں بند ملزمان کی حفاظت کرنے سے بھی قاصر ا اور معذور ہے؟

Post a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

.Copyright ©2011-2014 Top Story Online