ایک سو بتیس چهوٹے خالی بستر

Posted by admin  /   December 28, 2015  /   Posted in slider  /   1 Comments

تحریر انوارالحسن

By Maniاِس اعتراف پر مجهے کوئی شرمندگی نہیں کہ تشدد و ناانصافی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غم غصّے سے نمٹنے کے لئے میں ہمیشہ ’فاصلے‘ کا سہارا لیتا ہوں۔

مثال کے طور پر، شام میں جاری خانہ جنگی اور نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال یقینا گهمبیر ہےلیکن نہ تو میں کبهی شام گیا ہوں اور نہ ہی کسی شامی پناه گزین سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے۔ درست ہے کہ سعودی بلاگر، رائف بداوی، کو حکومت پر تنقید کرنے پر کوڑےمارے جاتے ہیں لیکن سعودی عرب قرون اولٰی کا ایک ایسا دقیانوسی سماج ہے کہ جہاں سیاح تک جانا پسند نہیں کرتے۔ اِسی طرح افغانستان میں طالبان نے ایک عورت کو کسی مرد سے محبت کرنےپرسنگسار تو ضرور کیا لیکن شکر ہے زندگی کی آخری رمق تک عورت کے برقعے کا نقاب چہرے سے نہیں سرکا۔

یہ ’فاصلہ‘ ہی تها جو گزشتہ سال پشاور کے ایک سکول میں دهشت گردوں کے ہاتهوں کم از کم ایک سو بتیس بچوں کے قتل اور اِس پر پاکستان کے ریاستی روئیے پر میرے غصّے کو قابو میں رکهنےمیں تیر بہدف ثابت ہوا۔ 16 دسمبر کو سات طالبان حملہ آور دیوار پهاند کر آرمی پبلک سکول میں داخل ہوئے اور بچوں اور عملے میں تفریق کئے بغیر سب کو گولیوں سے اُڑا ڈالا۔

میں نے اپنے آپ کا قائل کیا کہ اب جب کہ میں پاکستان میں رہتا ہی نہیں تو ریاست کے مزہبی شدت پسندوں سے جاری نرم برتاؤ کا مجهہ سے کیا لینا دینا؟ اور اگر سو سے زیاده چهوٹے تابوت اُٹهانے کے باوجود پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بهارت اور افغانستان کے خلاف مزہبی شدت پسندی پر پلے دهشت گردوں کے استعمال کا رجحان بدستور موجود ہے تو میں کیا کوئی بهی پهنے خاں آخر کیا کرسکتا ہے؟

پشاورکے واقعے کے بعد دهشت گردوں کی جانب ریاستی نرم روئیے کےعلاوه بهی کئی ایسے مواقع آئےجہاں ’فاصلہ‘ خاصہ مددگار رہا۔ خاص طور پر جب پارلیمان نے فوجی عدالتوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا، سابق فوجی صدر، پرویز مشرف، نے افغانستان اور بهارت پر پاکستان میں دهشت گرد حملوں کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا، پاکستانی فوج نے مزہبی شدت پسندوں کے بجائے مزہبی شدت پسندی کے خلاف آواز بلند کرنے والی سیاسی جماعتوں پر دباؤ بڑهانا شروع کیا، اور خاص طور پر جب اقوام متحده، امریکہ، اور بهارت کو دهشت گردی کی کئی وارداتوں میں مطلوب حافظ محمد سعید پاکستانی ٹی۔وی سکرین پر کسی معروف شخصیت کے انداز میں بدستور نظر آتے رہے۔

میں اپنے آپ کو ایک حد تک قائل کرنے میں کامیاب تو ہوگیا کہ اِن میں سے کسی بهی واقعے کا مجهہ سے کوئی براه راست تعلق نہیں لیکن مجهے یہاں یہ اعتراف کرنا ہی پڑے گا کہ پشاور کے واقعے کی چند ایسی باتیں ضرور تهیں جن پر تمام تر کوششوں کے باوجود میری ’فاصلے‘ کی حکمت عملی بری طرح ناکام ہوئی۔

ناکامی کی وجوہات پر غور کرنے پر سمجهہ آیا کہ ’فاصلے‘ کی حکمت عملی کے استعمال میں کسی غلطی کے بجائے ناکامی کا اصل سبب دراصل پشاور شہر سے میرا وه تعلق تها جو 1990 کی دهائی کے اوائل میں کچهہ عرصہ اِس شہر میں نوکری کرنےاور پهر یہاں اپنے پہلے بیٹے کی پیدائش کے نتیجے میں استوار ہوگیا تها۔ پشاور میں رہائیش نے جہاں شہر کے جغرافیے سے مجهے جوڑا تو پہلی اولاد کی پیدائش میرے باپ بننے کے تجربے کو ہمیشہ کے لئے پشاور سے منسلک کرگئی۔

شاید یہی وجہ ہے کہ آرمی پبلک سکول کے واقعے کو ایک سال سے زیاده عرصہ گزر جانے کے باوجود خون آلود جوتوں کے نشانات کے درمیان سکول یونیفارم میں ملبوس بچوں کی لاشوں کا ڈهیر زہن کے پردے پر آنے کے لئے اب بهی میری نیند کا محتاج نہیں۔ اِس منظر میں سکول آڈیٹوریم کے خارجی دروازے سے زرا اندر لاشوں کا ڈهیر ایسے نظر آتا ہے جیسے کام جلد ختم کرنے کی خواہش میں کوئی مزدور آٹے کی بوریاں اُس دن غلط جگہ چهوڑ گیا ہو۔ یہ درست ہے کہ یہ بوریاں میرے روز کے ریل کے سفر، دفتر میں کسی اکتادینے والی پریزینٹیشن، اختتام ہفتہ دوستوں کے ساتهہ ہنسی مزاق، یا گهر پر مہمانوں کی خاطر مدارت کے دوران جب چاہے اچانک آدهمکتی ہیں لیکن شکر ہے کہ وقت گزرنے کےساتهہ اِس منظر کے اثرات کی شدت میں اب بتدریج کمی ہوتی جارہی ہے۔

لیکن، اگر یہ منظر کبهی اپنے دس سالہ بیٹےکےسونے سے پہلے پوچهے جانے والے معصوم سوالوں کےدوران زہن میں عود کرآئے تو شاید کمرے کی نیم تاریکی کے بغیر میرے لئے اپنا ایک مضبوط باپ کا تصور قائم رکهنا آسان نہ ہو۔

کئی سال پہلے جنوری کی ایک سرد رات جب پشاور کے ایک ہپستال میں ڈاکٹر نے کہا کہ ایمبلیکل کورڈ ‪(‬umbilical cord‪)‬ بچے کےگلے کے گرد لپٹ جانے کی وجہ سے پیدائش میں پیچیدگی پیدا ہورہی ہے اور یہ کہ ’اِس سے بچے کی صحت مستقل طور پر متاثر ہوسکتی ہے‘ تو مجهہ پر سکتے کی ایک ایسی کیفیت طاری ہوئی جس میں سوتے سے آنکهہ تو کهل جاتی ہے لیکن یہ جان کر کہ آپ جسم کے کسی حصّے کو جنبش نہیں دے سکتے خوف سے گهگی بندهی رہتی ہے۔

اپنے بیٹے کی پیدائش سے قبل ہی اُس سے قائم ہوجانے والے اِس تعلق کی شدت مزہب سے کوئی خاص رغبت نہ ہونے کے باوجود مجهےاُس رات پشاور کے ایک نسبتا خوشحال علاقے میں واقع ایک ویران مگر غیر مقفل مسجد میں لے گئی۔ اُس رات میری خدا سے ملاقات تو نہیں ہوئی لیکن وضو خانے کےنلکے سے نکلتے سرد پانی کی تیز دهار پر نظریں گاڑے میرا یہ یقین ضرور پختہ ہوگیا تها کہ اولاد کے ساتهہ والدین کا تعلق بیان سے ماوراء ایک ایسی جگہ بستا ہے جسے محض محسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔

مسجد کے سناٹے میں خاصی دیر فون کی ضدی گهنٹی سننے اور زہن میں منفی خیالات کےبنتے بگڑتے بگولوں کے بعد دوسری جانب سے ایک مانوس آواز نے میرے پہلے بیٹے کی دنیا میں بحفاظت آمد کی نوید سنائی۔

اگلا سال اِس بچے کے وجود کی حدت، دهلے بالوں کی خوشبو، سوتے چہرے کے سکون، سانسوں کے آہنگ، اور اپنی شہادت کی انگلی کے گرد چهوٹی انگلیوں کے گداز اور معصوم گرفت کی لزتوں میں گزرگیا جبکہ سیاست، آرٹ، نوکری، خوب رو عورتیں، دوست، اور الکوحل زندگی کی ترجیحات میں کسی نچلے درجے پر منتقل ہوگئے۔

یہ درست ہے کہ آرمی پبلک سکول پر حملے والے دن میں پشاور سے ہزاروں میل دور لندن میں تها لیکن میں جانتا تها کہ یہ سکول پشاور میں کہاں واقع ہے۔ میں باآسانی حساب لگا سکتا تها کہ گولیوں سے زخمی بچوں کو ایمبولینسیں کم از کم کتنی دیر میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچا سکتی ہیں۔ میں یہ بهی جانتا تها کہ ہسپتال کے راستے میں وه کون کون سے مقامات ہیں جہاں ایک ڈراؤنے خواب کی سی کیفیت سے گزرتے والدین کی گاڑیاں ٹریفک میں کچهہ دیر کے لئے رکی ہونگی۔ میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی وه راہداریاں بهی دیکهہ سکتا تها جہاں میری طرح پشاور میں پہلی مرتبہ والدین اور بچوں کے درمیان صرف محسوس کئے جاسکنے والے تعلق سے پہلی مرتبہ متعارف ہونے والے والدین ننگے پاؤں، دل دهلادینے والی اندر کی خاموشی میں اپنے دلوں کی دهڑکن کی دهمک سنتے ہسپتال کے مرده خانے کے باہر اپنے بچوں کو شناخت کرنے سے پہلے ہمت جمع کررہے ہونگے۔

اِس سال 16 دسمبر کی رات اپنےدس سالہ بیٹے کے کمرے میں روشنی معمول سے زیاده مدهم رکهنے کی اصل وجہ میری ’فاصلے‘ کی حکمت عملی کی مکمل ناکامی تهی۔ میں نہ صرف اپنے اور پشاور کے اُن 132 خالی چهوٹےبستروں کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے میں ناکام رہا جن کے سرہانے بیٹهے بعض والدین کی آنکهوں سے اُس رات نیند کوسوں دور رہی ہوگی بلکہ مجهے اِس بات کا بهی بخوبی احساس ہےکہ جب تک میں زنده ہوں یہ خالی 132 بستر ہر 16 دسمبر کی رات میرے زہن میں اپنی تمام تر ویرانیوں کے ساتهہ موجود رہینگے۔

آرمی پبلک سکول، پشاور کے اُن بچوں اور عملے کی یاد میں جو 16 دسمبر 2014 کو ایک دهشت گرد حملے میں مارے گئے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

Anwar hasanانوارالحسن لندن میں مقیم جنوبی ایشیائی میڈیا کے ماہر ہیں۔ وه بی بی سی ورلڈ سروس سے بحیثیت صحافی کئی سال منسلک رہے۔ انوار نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کے گریجویٹ ہیں اور اُنہوں نے انٹر نیشنل سیکیورٹی اینڈ گلوبل گورننس میں برکبک کالج، یونیورسٹی آف لندن سے ماسٹرز ڈگری حاصل کی ہے۔
Email: [email protected]

One Comment

  1. Sajjad Anwar December 28, 2015 5:01 pm Reply

    One of the most moving cmments I came across on this incident

Post a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

.Copyright ©2011-2014 Top Story Online