فرقہ واریت کی جڑیں پنجاب میں، متاثر دوسرے صوبے

Posted by admin  /   January 11, 2013  /   Posted in اداریہ  /   تبصرے ۔ 9

sectarianismگزشتہ روز بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ہونے والے تین بم دھماکوں میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک جبکہ اس سے کہیں زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ شہر کے میزان چوک پر فرنٹیئر کور کو نشانہ بنایا گیاجس میں اس نیم فوجی ادارے کے تین اہلکاروں سمیت گیارہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ شیعہ آبادی والے علاقے علمدار روڈ پر ہوئے دو بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بانوے بتائی جا رہی ہے۔

میزان یا باچا چوک پر ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری قوم پرست یونائٹیڈ بلوچ آرمی جبکہ علمدار روڈ پر ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری فرقہ پرست تنظیم لشکر جھنگوی نے قبول کی ہے۔

علمدار روڈ پر ہونے والے واقعہ کی بے رحمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پہلے دھماکے کے بعد جب انتطامیہ، امدادی کارکن اور میڈیا کے لوگ اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مصروف تھے تو اطلاعات کے مطابق ایک خودکش بمبار نے حملہ کر دیا، چنانچہ ہلاک ہونے والوں میں ایک بڑی تعداد انتظامی اہلکاروں، امدادی کارکنوں اور صحافیوں کی بھی ہے۔ جبکہ سوات کے قریب تبلیغی جماعت کے ایک ہفتہ وار اجتماع میں ہونے والے دھماکے میں بائیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس دھماکے کے بارے ابھی تک متضاد اطلاعات ہیں، کچھ کے مطابق واقعہ گیس کا سلنڈر پھٹنے سے ہوا جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ شواہد بتاتے ہیں کہ یہ بارودی دھماکہ تھا۔

سال دوہزار چھ میں ایک فوجی آپریشن کے دوران بلوچ رہنماء نواب اکبر خان بگٹی کی ہلاکت کے بعد سے بلوچستان کی بعض قوم پرست تنظیموں نے عسکری کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔ ان کی ان کارروائیوں میں بلوچستان میں پچھلے کئی سالوں سے جاری فوجی آپریشن اور اس کے نتیجے میں ہونے والی جبری گمشدگیوں اور ہلاکتوں کی وجہ سے مزید شدت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ لیکن ریاستی جبر کے خلاف احتجاج کے طور پر معصوم لوگوں کا نشانہ بنانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

پاکستان کے مین سٹریم میڈیا میں بلوچستان اور بلوچوں کی حالت زار پر کم توجہ ہونے کی باوجود متبادل میڈیا یعنی انٹرنیٹ کی مدد سے بلوچ قوم پرست پاکستان میں اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں کرنے میں خاصے کامیاب رہے ہیں، لیکن بے گناہ لوگوں کو نشانے بنانے سے وہ انسانی حقوق کے علمبرداراپنے ہمدردوں کو مشکل صورتحال سے دوچار کر رہے ہیں کیونکہ شدت پسندی کی حمایت کوئی بھی نہیں کرے گا۔

بلوچ معاشرے میں فرقہ واریت کا عنصر حالیہ تاریخ کا حصہ ہے کیونکہ وہاں قبائلی یا قومی عصبیت تو موجود تھی لیکن مذہبی تعصب کا ماضی قریب تک کوئی وجود نہیں تھا۔ لشکر جھنگوی جس نے علمدار روڈ پر ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے وہ پنجاب کا فتنہ ہے اور اسی و نوے کی دہائیوں تک ان کی کارروائیوں کا نشانہ پنجاب کے لوگ ہی رہے ہیں۔یہ بات قابل غور ہے کہ مذہبی فرقہ واریت پر قائم تنظیموں کی کارروائیاں جمہوری ادوار میں بڑھ جاتی ہیں جبکہ فوجی حکومتوں میں یہ پس پردہ ہوجاتی ہیں۔

لشکر جھنگوی کے رہنماء ملک اسحاق کی پنجاب کی ملتان جیل سے رہائی اور گھومنے پھرنے کی آزادی نے شہاز شریف کی موجودہ حکومت کے فرقہ واریت کے خلاف عزم پر سوال کھڑے کر دیے ہیں، خاص طور پر جب ان کے وزیر قانون رانا ثنا ء اللہ مذہبی شدت پسندوں کے ساتھ عوامی اجتماعات میں جاتے دیکھے جاتے ہیں۔ پنجاب حکومت کی اس مبینہ نرمی کی وجہ سے اس کو تو بظاہر لشکر جھنگوی کی کارروائیوں سے امان ملی ہوئی ہے لیکن یہ فتنہ اب دوسرے صوبوں خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں شیعہ مسلمانوں کو نشانہ کیے ہوئے ہے۔

ان شدت پسند تنظیموں کے خلاف ریاست نے جب بھی معنی خیز کارروائی کا فیصلہ کیا تو پنجاب سے اس کا آغاز کیے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہونگے۔

9 Comments

  1. سعید انور ہیؤسٹن امریکہ January 11, 2013 6:54 pm Reply

    یہ حوصلہ کس مدیر نے کیا اور کس کو یہ ہمت ہوئی کہ تشدد کی جڑیں پنجاب میں ہونے کااعلان بہ بانگ دہل کردیا۔کس نے غرور اور بد مست مسرور آنکھوں سے اس چشمے کوا تارنے کی کوشش کی ورنہ اس وباء کی ابتداء توسالوں کراچی سے منسوب کی جاتی رہی مقتدر طبقہ اسکو ماننے کے لئے تیار نہ تھا کہ اسکی ڈرائیو کراچی سے نہیں ۔جب مغربی دنیا نے یہ طوق پنجاب سے منسوب کیا تو خادم پنجاب نے میڈیا کے ذریعے ان سے پنجاب کو تو چھوڑنےکے اعلان کے بعد سے یہ وباء دوسرے صوبوں میں شفٹ کردی۔اور حیرت تو اسبات پرہےکہ لوگوں کو ابھی تک اپنی پگڑی پر داغ نہیں دکھ پا رہا۔
    اب اس وباء سے درجنوں جانیں روزانہ تلف کی جارہی ہیں اور خدام اف تک نہیں کررہے۔ہاں البتہ ایم کیو ایم نے ڈاکٹر قادری کے لانگ مارچ سےاپنا نام اور تعاون نکال کر حوشمندی کا ثبود دیا جیسا کہ لگ رہا ہے کہ اس لانگ مارچ سے تخریب کاری کرنے اور فلم کا اینڈ جلد کرنا دکھ رہا ہے،ایک طرف انڈیا اس ہی وقت میں سرحدوں پر کچھاؤ پیداکرکے حالات کو بگاڑنے کی کوشش کررہاہے ادھر اندرون ملک ہر جگہ دہشتگری زور پکڑتی جاہی ہے۔
    میری استدعا پاک فوج سے مؤدبانہ ہے کہ اگر ملک ختم ہوا تو یہ فوج ناپاک فوج کہلائے گی اور کہا اور کس ملک کی فوج بن کر تنخواہ لے گی خدارا بیرکوں سے نکل کر اسکو بچائیں اور امن امانقائم کرکے واپس بیرکوں میں چلے جائیں پھر تو تاریخ آپکو اچھے ناموں سےیادکرے گی وگرنا ان حالات اور صورتحال میں تماشائی بنے رہنے پر کیانی صاحب آپکانام اسپین کے اس آخری حکمران کے ساتھلیا جائیگا جو اپنی ماں کے سامنے کف افسوس کر رہا تھا جسکو اسکی ماں تک نےطعنہ دے کر اپنے سے دور کردیاتھا۔
    ایسی جمہوریت جس سے ملک نہیں چل رہا اسے بیساکھیوں کی مدد دیکر اسکے تین مہینےپورے کرادیں اور پھر الیکشن کراکے حکومت کی ڈور نئےکھلاڑیوں کو دیکر قوم کو سرخرو کریں تاکہ آپکی دانشمندی اورشرافت کے لوگ معترف ہو جائیں اور آپکی شرافت کی قسمیں کھاسکیں۔

  2. ساج حسن January 11, 2013 7:25 pm Reply

    یاد کریں خادم اعلی کی اپنے خادموں سے اپیل کہ “پنجاب میں دہشتگردی نہ کریں۔”
    باقی تین صوبے کس لیے ہیں؟ آخر میں دہشتگردوں اور شریفوں کی ڈوریاں بھی تو ایک ہی ہاتھ میں ہیں نا۔ اور مزے کی بات کہ وہ بھی خود کو خادمین ہی کہلواتے ہیں مگر خرمین شریفین کے۔

  3. حیران January 11, 2013 7:44 pm Reply

    ریاست نے چوڑیاں پہن رکھی ہیں کیا -
    دہشت گردوں سے نرمی برتنے والوں کی سرزنش کیوں نہیں کی جاتی – یا درون خانہ کوئی گٹھ جوڑ کر رکھا ہے – مر تو غریب رہے ہیں – ان کی صحت پر کیا فرق پڑتا ہے – لیکن مت بھولیں ناگ کسی کے نہیں ہوا کرتے – دودھ پلا پلا پالتا سپیرا بھی ڈس لیا جاتا ہے -

    • حیران January 12, 2013 3:53 pm Reply

      پنجاب حکومت کے لئے

      میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
      چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کِسی کی نہیں

  4. حماد اشرف January 12, 2013 2:12 pm Reply

    جڑوں کا پانی اور خوراک بند کر دی جائے تو۔۔۔۔۔ اس کے بارے میں کیا خیال ہے۔۔۔۔ کل کو کراچی میں ہونے والی قتل و غارت کا زمہ دار بھی شائید خادم اعلی کو ٹھرایا جائے۔۔۔
    بیوروکریسی میں اور حکمران طبقے میں اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود پتہ نہیں کیوں ان کے کان پر بھی جوں تک کیون نہیں رینگتی۔ الزام کبھی بھارت پر کبھی امریکہ پر۔ شک سعودی عرب پر ۔اور اب آخر کار پنجاب اصل مجرم سامنے اگیا

  5. Zain January 12, 2013 2:23 pm Reply

    میں نوازشریف کا حامی نہیں . لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ آپ اپنی نظریاتی وابستگی کی وجہ سے بلوچستان کی بےپرواہ حکمران سیاسی جماعتوں کی جگہ نظریاتی مخالفین کے ساتھ حساب برابر کر رہے ہیں.
    اس واقع کی دنیا بھر میں مزممت ہوئی مگر بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے پھر بھی صوبے میں آنے تک کی تکلیف نہیں کی. شہبازشریف نے پنجاب کے پیسے بلوچستان کے حوالے کر دیے مگر ان اربوں کھربوں سے وزیروں کی فوج بنائی اپنی تجوریاں بھریں مگر .تحفظ یا ترقی کہ لیے کچھ نہیں کیا .

    ایسا وزیراعلیٰ پنجاب کا ہوتا تو پنجاب کی عوام نے کب کا باہر پھنکا ہوتا مگر افسوس باقی صوبوں میں سیاستدانوں کی کرکردگی کی جگہ جذباتی نعروں پر ووٹ ملتے ہیں. خیبرپختون خواہ میں کسی حد تک کارکردگی دیکھی جاتی ہے باقی صوبوں میں تو کرپشن اور میریٹ کا نعرہ بھی نہیں لگایا جاتا.

    اگر عوام ووٹ نہیں بدلیں گے تو سیاستدانوں کو کارکردگی بدلنے کی کیا ضرورت ہے ؟

  6. Pingback: کوئٹہ کا علمدار روڈ پاکستان کی التحریر سکوائر Top Story Online| topstoryonline.com Top Story Online

  7. سعید احمد January 13, 2013 9:17 am Reply

    سعید انور ساحب، کراچی لسانی دھشتگردی میں مبتلا ھے، جس کی ذمہ دار ایم کیو ایم ھے۔ اس حقیقت کو جھٹلایا نھیں جا ساکتا ھے۔

  8. Pingback: بلوچستان میں گورنر راج نافذ، دھرنا ختم Top Story Online| topstoryonline.com Top Story Online

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*