میمو کیس: مشرف کے ساتھی سچے، عوامی نمائندے جھوٹے
Published on 31. Dec, 2011

(تبصرہ : رؤف کلاسرا )حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر کا میمو سکینڈل کیس پر سپریم کورٹ کی طرف سے آنے والے متوقع فیصلے پر یہ کہنا کہ یہ پاکستانی عدلیہ کا سیاہ ترین دن ہے اور انہوں نے جس عدلیہ کو آزاد کرانے کے لیے جدوجہد کی تھی یہ وہ عدلیہ تو نہیں، اس بات کا ثبوت ہے کہ آخر کار پانچ سال بعد ہی سہی فوج اور عدالت میں ایک دفعہ پھر صلح ہو گئی ہے اور اب پاکستانی سیاستدانوں اور جمہوریت کی خیر نہیں ہے۔اس نئے الائنس میں تڑکا میاں نواز شریف نے لگا دیا ہے جو اب کھل کر فوج کا کھیل کھیلنے کے لیے تیار ہیں اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ شہباز شریف اور چوہدری نثار کی رات کے اندھیرے میں کی گئی چھ ملاقاتوں کا آخرکار نتیجہ نکلنا شروع ہو گیا ہے۔
تو کیا اس فیصلے سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ چاہے پاکستان آرمی نے ججوں کو گرفتار کر کے انہیں ان کے گھروں میں نظر بند رکھا ہو، وہ پھر بھی عدالت کی آنکھ میں ان سیاستدانوں کے مقابلے میں بہت اچھے ہیں، جنہوں نے ان ججوں کو نہ صرف رہا کیا تھا بلکہ انہیں پورے اعزارت اور پورے ایک سال کی تنخواہ کے بقیہ جات ادا کرنے کے بعد بحال بھی کیا تھا۔ تو کیا جنرل مشرف نے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل کیانی کے ساتھ مل کر چیف جسٹں اور ان کے ساتھیوں کو درست معطل کر کے گھروں میں نظر بند کردیا تھا اور وزیراعظم گیلانی کا وزیراعظم بنتے ہی پہلا حکم دینا کہ ججوں کو فورا رہا کیاجائے، ایک جذباتی اور غلط قدم تھا؟
آج تاریخ نے ثابت کر دیا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین درست کہتے تھے کہ ہمیں عدالت اور فوج کے معاملات میں پارٹٰی نہیں بننا چاہیے کیونکہ یہ ایک دوسرے کے پرانے ساتھی ہیں اور اپنے گلے شکوے دور کرکے ایک دوسرے کو گلے لگا لیں گے۔ اس وقت سب نے چوہدری شجاعت کا مذاق اڑایا تھا کہ بھلا جج اور فوجی ایک دفعہ پھر کیسے گلے لگ سکتے ہیں۔ تاہم تیس دسمبر کو سب نے دیکھا کہ اسی عدالت جسے فوجیوں نے قید کیا تھا یہ فیصلہ دیا کہ پاکستان آرمی کے جنرل اشفاق پرویز کیانی سچے اور وفاقی حکومت اور پارلیمنٹ جھوٹے ہیں۔
اگر آپ بھول گئے ہوں تو آپ کو یاد کرایا جائے کہ جنرل کیانی ان دنوں پاکستان آرمی کے چیف تھے جب پوری عدلیہ کو جنرل مشرف نے قید کر رکھا تھا۔ آج وہی جنرل کیانی سچے اور جنہوں نے انہیں جنرل مشرف کی جیل سے آزادی دلوائی تھی وہ جھوٹے ہو گئے۔
وفاقی حکومت کا کہنا تھا کہ میمو ایک کاغذ کا ٹکڑا تھا کیونکہ اس کو لکھنے والا ایک امریکی شہری تھا، جس نے خود وہ میمولکھا، جمیز جونز کو ڈھونڈا اور اسے مائیک مولن تک پہنچایا۔ اس میمو پر پاکستان کے صدر سے لے کر وزیراعظم اور حسین حقانی کسی کے دستخط نہیں تھے۔ حکومت پرامید تھی کہ نواز شریف جو اس مقدمے میں پیٹشنر تھے کے پاس کوئی دستاویزی ثبوت نہیں تھا جس سے ثابت ہوتا کہ وہ میمو حکومت پاکستان کی طرف سے لکھا گیا تھا۔ یوں یہ مقدمہ کافی کمزور تھا۔ کیوں کہ حقانی اور منصوراعجاز کے پبغامات سے کچھ ثابت نہیں ہوتا تھا کیونکہ بات گھوم پھر کر وہیں آجاتی تھی کہ وہ میمو لکھنے والا حقانی نہیں بلکہ منصور اعجاز تھا۔ اس لیے جنرل کیانی کو یہ بیان دینا پڑا کہ ان کے خیال میں وہ میمو حقیت تھا اور اس کی تحقیات ہونی چاہیے۔
عدالت نے آرمی چیف کی بات مان لی اور سیاسی اور سولہ کڑور لوگوں کے نمانئدہ حکومت کو اس لیے جھوٹا قرار دیا گیا جہاں میمو سکینڈل پر ایک کمیٹی پہلے ہی تحقیات کر رہی تھی، کیونکہ عدالت سمجھتی تھی کہ آرمی چیف کے بیان کی اہمیت زیادہ تھی اور وزیراعظم کی کوئی وقعت نہیں۔
بڑے مزے کی بات ہے کہ اسی وزیراعظم گیلانی سے سپریم کورٹ کے سترہ ججوں نے دو دو پلاٹ لیے۔ اس کے علاوہ اپنی مرضی کے ججوں کو تعنیات کرایا گیا۔ جب چیف جسٹں نے آرمی چیف کی عدالت میں تعریف کی تھی تو سب سمجھ گئے تھے کہ کیا فیصلہ آنے والا ہے۔ ماضی لوٹ آیا تھا۔ ایک دفعہ پھر پیپلز پارٹی کی حکومت اور اس کے خلاف آرمی، نواز شریف اور عدالت کا جوڑ۔
ماضی میں یہ الائنس کامیابی سے چلتا رہا تھا۔ پیپلز پارٹی اس لیے بھی اقتدار میں چار سال گزار گئی کیونکہ اب تک نواز شریف اور عدالت اس سازش میں شامل ہونے کے لیے تیار نہیں تھے۔ جونہی وہ دونوں تیار ہوئے ساتھ ہی وہ جنرل اچھے ہوئے جن کے دور میں پوری عدلیہ معطل رہی اور گھروں میں نظربند رہی۔ یہی جنرل کیانی اس وقت چیف آف آرمی سٹاف ہوتے ہوئے بھی ان ججوں کو رہا نہ کر سکے تھے کیونکہ ابھی جنرل مشرف ایوان صدر میں برابرجمان تھے۔ پھر یہ کریڈٹ گیلانی کو جاتا ہے کہ جنرل مشرف کے ایوان صدر میں ہوتے ہوئے بھی وزیراعظم کی حیثت سے پہلا حکم دیا کہ ججوں کو رہا کیا جائے۔
آج وہ جنرل کیانی عدالت کو وہ سپاہ سالار نظر آتے ہیں جو اپنا خون قوم کے لیے بہاتے ہیں اور وہی گیلانی ان کو ظالم لگتے ہیں۔
عاصمہ جہانگیر اس لیے مایوس ہوئی ہیں کہ ان کا خیال تھا کہ جس پارلیمنٹ نے ان ججوں کو فوجیوں کے ہاتھوں رہائی دلوائی تھی آج اس کے وقار کا خیال رکھا جائے گا اور کہا جائے گا کہ عدالت پارلیمنٹ کی کمیٹی کی میمو سکینڈل پر ہونے والی تحقیات کا انتظار کرے گی۔ تاہم عدالت نے ثابت کیا کہ وہ پارلیمنٹ سے بھی ایک بڑا ادارہ ہے اور سولا کڑور لوگوں کی مرضی سے بننے والی پارلیمنٹ کی کوئی حیثت نہیں ہے۔ اس لیے عاصمہ کو کہنا پڑا کہ ان کی عدالت کو بحال کرانے کی جدوجہد ضائع گئی تھی کیونکہ جج صاحبان تو ایک دفعہ اسی فوج کا کھیل کھیل رہے تھے جس نے ان ججوں کو معطل کرکے انہیں نظر بند کیا تھا۔
عاصمہ کا یہ بیان بہت اہم ہے کہ نواز شریف ایک دن پچھتائیں گے کہ انہوں نے کیوں سپریم کورٹ میں ایک سیاسی حکومت کے خلاف ایک مقدمہ کرکے فوج کے ہاتھ مضبوط کیے تھے اور یہ وہی فوج تھی جس کے بارے میں وہ آج تک روتے ہیں کہ انہیں بارہ اکتوبر کے بعد ہتھکڑیاں لگا کر وزیراعظم ہاؤس سے گھیسٹ کر نکال کر لے گئی تھی۔ آج وہ اسی فوج کے ساتھ کھڑے ہو کر پارلیمنٹ اور سیاست کی بے توقیری میں برابر کے شریک ہو رہے تھے۔ شاید عاصمہ کے ذہن میں یہ بات ہو کہ جب نواز شریف 1997 میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں بنا رہے تھے تو سب نے منع کیا تھا کہ آپ متوازن عدالتی نظام مت قائم کریں۔ اس پر ان کا اس وقت کے چیف جسٹں سجاد علی شاہ سے جھگڑا شروع ہوا اور عدالت پر حملہ کرایا۔
آخر دو ہزار میں جنرل مشرف نے نواز شریف کی بنائی ہوئی اسی خصوصی عدالت سے انہیں طیارہ ہائی جیکنگ کے الزام میں عمرقید کی سزا دلوائی۔
تو کیا ایک دفعہ پھر عاصمہ نے اس طرح کی پیش گوئی کر دی ہے کہ دوبارہ نواز کا انجام وہی ہوگا کیونکہ وہ ایک دفعہ پھر جرنیلوں کے ساتھ مل کر سیاست اور جمہوریت کے خلاف ایک نیا کھیل کھیل رہے تھے جس میں ان کو ہی نقصان ہو گا۔ وہ آج خود ایک وزیراعظم اور پارلیمنٹ پر ایک آرمی چیف کو ترجٰیح دے رہے ہیں، تو پھر کل کلاں کو وہ وزیراعظم بن کر کیسے آرمی چیف سے آنکھ اٹھا کر بات کر سکیں گے اور جو کچھ ان کے ساتھ کارگل پر کیا گیا وہ کیسے بھول گئے ہیں؟
تیس دسمبر کے فیصلے سے وہ سب لوگ غلط ثابت ہوئے ہیں جو سمجھتے تھے کہ جنرل مشرف کے نو مارچ دو ہزار سات کے چیف جسٹں کو معطل کرنے کے بعد فوج اور عدلیہ کے تاریخی اتحاد میں دارڑ پڑگئی تھی اور اب عدالتیں عوام اور پارلیمنٹ کے ساتھ ہوں گی۔ پانچ سال بعد وہ دوستی کے نئے بندھن میں جڑ گئے ہیں اس لیے آج جنرل کیانی اچھے اور پارلیمنٹ سے منتخب کردہ حکومت بری ہوگئی ہے جس کے ارکارن اس وقت ڈیسک پیٹ پیٹ کر بے ہوش ہو رہے تھے جب وزیراعظم گیلانی ججوں کو رہا کرنے کا حکم دے رہے تھے۔
عدالت میں ایک دفعہ پھر فوج سچی اور سیاستدان اور سیاسی حکومتیں جھوٹی ثابت ہوئی ہیں۔
آج سے چار سال قبل چوہدری شجاعت درست کہتے تھے کہ فوج اور عدالت ایک ساتھ ہیں۔ اگر وقتی طور پر ان میں اختلافات پیدا ہو گئے تھے تو ہمیں ان کے باہمی جھگڑے میں نہیں پڑنا چاہیے ۔ کون جانتا ہے کہ وہ دوبارہ گلے مل جائیں۔ تیس دسمبر جسے عاصمہ جہانگیر نے عدلیہ کے لیے ایک سیاہ دن قرار دیا، واقعی دو چیفیس دوبارہ گلے لگ گئے ! اس پر مجھے ایک سرائیکی کا محاورہ یاد آرہا ہے کہ جنج پرائی تے احمق نچے۔ اس پورے کھیل میں احمق سیاستدان ہی ثابت ہوئے ہیں !





قرم بڑھاؤ رؤف صاحب مگر ھم ساتھ نھین۔آگے کنواں پیچھے کھائ۔ چوھدری شجاعت کو ں میڈا پہلاسلام۔
؎ٗ
اگر گیلانی نے پلاٹ دئے تو کیا اپنی جیب سے دئے تھے؟؟؟؟اگر گیلانی نے ججوں کی رہائی کا حکم دیا تھا تو اس کا مطلب ہے کے حکومت کے خلاف فیصلہ نہیں آنا چاہے؟؟؟کیا اب ججوں کو ثبوتوں کے بجاے اپنی مدد کرنے والوں کے حق میں فیصلے اکرنے چاہیں؟کیا بغیر ثبوتوں کے عدلیہ زبردستی زرداری یا حقانی کو سزا دے سکتی ہے آج کل کے دور میں؟؟؟کیا سب لوگ اور میڈیا اندھا ہو جائے گا؟؟تحقیقات ہونے میں بھلا کیا تکلیف ہے سب کو؟؟؟؟آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کے نواز شریف فوج سے مل گئے ہیں ؟؟ صرف مکمل بد گمانی پر تعمیر شدہ کالم ہے یہ ….میں تو ویسے بھی اس معملے کو فضول سمجھتا ہوں ،اور آخر میں حقانی پر الزام ثابت نہیں ہو گا ،زرداری پر تو دور کی بات ہے .لکن لگتا ہے کے اندیشوں اور خوف نے آپ لوگوں کو متوازن انداز میں سوچنے سے محروم کر دیا ہے .جہاں تک افتخار چودری کی بات ہے تو وہ مجھے ویسے ہی مشکوک بندہ لگتا ہے ،اس کی سچائی بھی کھل ہی جائے گے ایک نہ ایک دیں .لکن بھلا بغیر کسی ثبوت کے اس میڈیا کے دور میں کوئی کس طرح جانبدارانہ فیصلہ دے گا؟؟؟کون قبول کرے گا؟؟لوگوں اندھے نہیں ہیں ،آپ نے تمام کالم مفروضے پر لکھا ہے .اگر کیانی نے ججوں کو قید کیا تھا تو کیا اس کی اپنی مرضی تھی اس فیصلے میں ؟؟؟کیا ایمرجنسی مشرف نے کیانی کی اجازت سے لگائی تھی؟کیانی اس وقت سربراہ نہیں تھا اس کا کام فیصلوں پر عمل درآمد کرانا تھا ،اب اگر اس وقت ججوں کو قید کرنے والے پولیس افسر آج ججوں کی حفاظت اپر مامور ہیں تو وہ کل بھی اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے اور آج بھی دے رہے ہیں . ..جج نواز شریف اور پنجاب حکومت کو فیور کر جو رہے ہیں اور کتنا فیور کریں ؟؟؟
ثاقب صاحب! مفرضے نہیں ہیں یہ حقیقت ہے۔مشرف نے کیانی کےمشورے سے ہی 3 نومبر کو ایمرجنسی لگائ تھی۔نوازشریف کو رعاتیں ہی رعاتیں دی ہیں اس چیف جسٹس نے۔کتنے کیس سنے ہیں نواز شریف کے بتاو گے
و ا ہ کیا با ت ہے عد ا لتو ں کی جنا ب ہمیشہ ثبو ت کو مد نظر رکھا ہے ر و ف نیں جو کہا ایسا ہی ہو تا آ یا ہے و ہ گما ن نہیں ہے ا سکا ثبو ت شہبا ز کا فو ج کی حما یت میں بیا ن جو کہ بد نیتی پر مبنی تھا و ہ کیا تھا پھر میمو جیسا فضو ل مسلہ عد ا لت میں لے جا نا کیا ہے کل تک تو یہ سب کچھ نو ا ز شر ہف جلسو ں میں تقر یر و ں میں کہ ر ہا تھا اور جر نییلو ں کو للکا ر ر ہا تھا ( میں کسی معر و ف لیڈ ر کی طر ح ا س للکا ر کو فو ج کے خلا ف نہیں سو چتا یا سمجھتا) تو ا چا نک خو ا ب آ یا تھا ہ یا و حی ا تر ی تھی کہ اب و ہ جر نیل سچے ہین لہذ ا عد ا لت میں جا و و یسے لو گ کہتے ہیں ا مر یکہ کی عد ا لتیں فو ج ا و ر سیا ست د ا ن جنا ب منصو ر ا عجا ذ کے بیا نا ت پر عمل کر تے ہیں عد ا لتیں انکے بیا ن پر بس فیصلہ سنا دیتی ہیں او ر و ہا ں کی فو ج و ہ تو انکا بیا ن پڑ ھ کر و ہا ں ما ر شل لا لگا د یتی ہے جنا ب یہ گما ن نہین یہی ہسٹر ی ھے ا ن کی
رؤف بھائی ابھی ابھی آپ کا دنیا نیوز پر شوو دیکھا ،نسیم زہرہ اور باقی رپورٹرز کے ساتھ ،یقین جانے کے جو باتیں آپ کر رہے تھے ووہی عام لوگوں میں ان نیوز چنیلز کا تاثر ہے .جس طرح آپ نے اپنے ہی صحافی برادر کے ساتھ اختلاف کیا ،وہ تعریف کے قابل ہے .خبروں اور رپورٹنگ اور براڈ کاسٹنگ میڈیا پر آپ کی سوچ سے میں اتفاق کرتا ہوں .
ثاقب صاحب. اپنی بات میں اتنا اضافہ کریں. نمبر ایک پی پی سولہ کروڑ عوام کی نمائندہ جماعت نہیں نمبر دو پی پی کے تمام کام عوام کی مرضی کے نہیں گیس بجلی پٹرول مہنگائی بے روزگاری کرپشن یہ جو رہاہے یا جو سب عوامی نمائندے کر رہےہیں عوام کی مرضی سے نہیں.
تو کیا ھم سب کو
حسین حقانی عاصمہ جہانگیر زندہ باد کانعرہ لگاناچاہیے؟؟
جی ہاں
بحرحال عاصمہ نے یہ کہہ کر، ” نواز شریف ایک دن پچھتائیں گے کہ انہوں نے کیوں سپریم کورٹ میں ایک سیاسی حکومت کے خلاف ایک مقدمہ کرکے فوج کے ہاتھ مضبوط کیے تھے“ تاریخ کا حقِ نمک ادا کر دیا ہے۔ نواز شریف جیسے مُنتقم مزاج اور امیرالمومنین بننے کے مُتمنی شخص میں دُور تک دیکھنے کی صلاحیت نہ پہلے کبھی تھی نہ اب ہے۔ آنے والا ”ایک دِن“ تو جب آئیگا تو آئیگا۔ میاں صاحب تو آجکل ایک ایک دِن نِکال رہے ہیں بلکہ عمران خان کے کھڑاک کے بعد تو نوبت پل پل جینے پر آ گئی ہے۔
علی علوی ! تم ٹھیک کہتےہو۔
کالاسرا آُپ نے جس ھمت اور برد باری سے ئ کالم لکھا ھے اس پر آُُپ کو لاکھ مرتبا سلام ھو سب جھمورئت پسند لوگون کئ جانب سے مبارک باد قبول کرئن ( مخدوم الھرکئو )
تصورا تی تحر یر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسا کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جج جرنیل اتحاد نہیں ھوا
Janab Klaasra sb pehli baat to ye k PPP 16 Caror Awaam ki numaenda Jamaat ni hy.
Doosri baat ye k agar MEMO ki koi haqeeqat ni hy to phir Haqqani ko kiun hataya gya?
3eesri baat ye k inhee Musharaf k saathion k saath Aap k PM sb pishly 4 saal chal rahy hn to ab achanak wo kesy bury or PM dhood ka dhula ho gya?
or is k ilaawa ab aap ko Ch. Shujaat ki Baten b bht yaad aa rahi hn. AAJ in logon ki hi waja sy mery Pakistan ko ye Din dekhny par rahy hn or aap in ki 2 no baton ko apni Tehriiron ma qot kar rahy hn.
kya baat hy aap ki b
عدلیہ آذاد ہے۔ یعنی عساکر کی مکمل گرفت میں ہے۔ اسے کہتے ہیں آمریت کا حسن- جمھوریت تو ھر بار بیوگی اور بیچارگی کی چارر اوڑھ لیتی ھے ۔ اب پھر سہی ۔
پاکستان میں جمہوریت اپنا دائروی سفر شاید مکمل کر چکی ہے۔
یہ کیا روف صاحب اآپ بغیرکسی ثبوت کے اتنی بڑی بات کر رہے ہیں ۔
کلاسرا صاحب یاد رکحی آخری امید سپریم کورت ہی تہی وڑنہ آ پ صحافت کو لیو کر چکے تھے
جتھون دی کھوتی اتھے جا کھلوتی
ایک ہور وی نال رلا لیائی
بالکل غلط تجزیہ ہے آپ نے ایسی ہی بات کی جیسے لوئر موسٹ لیول پر فیورٹزم چلتی ہے پتا نہیں آپ کیوں حکومت کی طرفداری کر رہے ہیں؟پارلیمنٹ ہماری تو عدالت اور فوج بھی ہماری ہی ہے۔اس کیس میں عدالت اور فوج کی مصالحت کو پرانے واقعات کے ساتھ ملانا صرف بےوقوفانہ مفروضے سے زیادہ کچھ نہیں ہےمیمو کے مندرجات بھیانک ہیں اور اب تک جو عدالت نے کیا بہت درست کیا۔رہیں عاصمہ صاحبہ تو انہوں نے اپنے مؤکل کا دفاع کسی طرح تو کرنا ہی ہے!اور ایک اور بات کہ مشرف کے کیے کا زمہ دار کیانی کیوں ہو؟وزیراعظم نے جس طرح بحال کیا وہ ابھی بھولا نہیں اس فیصلے میں کیانی کا بھی کردار تھا
کلاسرہ صاحب! گالھ تاں تہاڈی سمجھ آون آلی اے۔ پر سیاست داناں دا حال ڈیکھ تے تاں لگدے جو ایندے اچ قصور فوج یا عدالت دا نی۔ بہرحال سئیں احمق تاں احمق اے۔ اونچے نال نا نچے۔
اس کالم مئن بار بار ھکومت کا عدلئہ پر اھسان جیتلانے کی کوشش کئ گئ ھے جو عدل کے لے ناکافئ ھےاس ترھ تو ھر کوئ اھسان جتلا کر جو مرزی کرتا رھے گا
سچ کہا اس ملک کے سیاستدان ہمیشہ ہی احمق ثابت ہوئے ہیں اس لیے تو یہ اٹھارہ کروڑ عوام کے ووٹ لے کر بھی زلیل ہو کر حکومت سے نکلتے ہیں۔جس دن یہ لوگ عقل مند اور متحد ہو گئے سمجھ لینا کہ اب پاکستان ترقی کرنا شروع ہوا ہے
کونسے عوامی نمائندے؟گلگت بلتستان کو جتنے حقوق مشرف اور انکے ساتھیوں نے دئے ہیں وہ نام نہاد عوامی نمائندوں نے نہیں-جعلی صوبہ بنا کر مزید حقوق چھیننا،ایک بھی ترقیاتی منصوبے پر کام نہ کر نا،ڈیم گلگت میں بنا کر رائلٹی خیبر پختونخوا کو دینا،یہ انہی عوامی نمائندوں کا کام ہو سکتا ہے-ویسے بھی گلگت بلتستان کے عوام کو ووٹ کا حق نہیں-یہ کسی کے بھی نمائندے ہو سکتے ہیں مگر ہمارے نہیں
کلاسرا صاحب ! آپ بتانا پسند فرمائیں گے کہ گیلانی نے کیانی کو ایکسٹینشن کیوں دی تھی اور مشرف کو گارڈ آف آنر کس نے دیا۔ اور کلاسرا صاحب معاف کرنا ججوں کو بحال کرنا گیلانی کا کریڈٹ نہیں ہے۔ انہیں اس قوم نے بحال کروایا ہے۔ آپ یہ غلط بیانی بھی چھوڑیں کہ یہ حکومت سولہ کروڑ کی نمائیندہ ہے۔ اگر یہ سولہ کروڑ کے نمائیندہ ہیں تو اپوزیشن کہاں گئی اور ہم ساٹھ فیصد تو ان دونوں کو ہی جھوٹا سمجھتے ہیں۔ جس معاملے کیلئے حکومت تحقیق کروا رہی ہے اسکے لیئے آپ سپریم کورٹ کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔ پالیمانی کمیٹیوں کی اوقات آپ سے بہتر کون جانتا ہے ۔ جو ایک مرسیڈیز لیکر قوم کے اربوں روپے ڈبو دیتے ہیں اور آپ ٹی وی پر بیٹھ کر واویلے کرتے ہیں۔ آپ چاہتے ہیں کہ چوروں کو ہی چوری کی تفتیش سونپی جائے۔ سبحان اللہ کیا سوچ ہے۔
میں نے رؤف صاحب کا تبصرہ اور اس پر اب تک کیے گئے کمنٹس دلچسپی سے پڑھے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ کمنٹس لکھنے والے دوست سپریم کورٹ کے میمو کیس فیصلے سے جمہوریت پسند حلقوں میں پھیلنے والی مایوسی کو سمجھ نہیں پارہے۔ کلاسرا صاحب نے جو باتیں لکھی ہیں وہ تاریخ کی روشنی میں بیان کی ہیں۔ کیا اس حقیقت سے انکار ہے کہ فوج نے آئین کو پامال کرتے ہوئے تین دوفعہ لمبے عرصے کے لیے ملک پر حکومت کی ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف ایک فرد کی حیثیت سے کچھ نہیں ہوتا، یہ اس کے ادارے کی طاقت ہے جس کے بل بوتے پر وہ مارشل لاء اور ایمرجنسی لگاتا ہے اور سیاستدانوں اور ججوں کو قید کرتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی سنا کہ کبھی کسی کورکمانڈر نے یا آئی ایس آئی سربراہ نے غیر آئینی اقدام کرے والے اپنے چیف سے ضمیر کی آواز پر اختلاف کیا ہواور مستعفی ہو گیا ہو؟ یہ سب اس کے دست و بازو ہوتے ہیں۔ جنرل کیانی تو مشرف کی اس ٹیم میں تھے جو این آر او کی تفصیلات طے کرتی پھر رہی تھی۔ اب آپ یا یہ تسلیم کریں کہ ساری فوج بشمول کور کمانڈرز روبوٹ ہیں جن کا کنٹرول چیف آف آرمی سٹاف کے پاس ہوتا ہے۔ اوریاد رکھیں افتخار چوہدری ان ججوں میں شامل تھے جنہوں نے نہ صرف مشرف کے پہلے پی سی او کے تحت حلف لیا بلکہ انہیں تین سال کے لیے آئین میں اپنی مرضی کی ترامیم کرنے کا اختیار بھی دیا۔
اور پارلیمان بحیثیت مجموعی سولہ کروڑ عوام کی نمائندہ ہے، جس کے آج منتخب سربراہ گیلانی ہیں کل کو کوئی اور ہوگا، نواز شریف یا عمران خان۔یا تو ہم طے کرلیں کہ ہمیں جمہوریت نہیں چاہیے اور فوج کا سربراہ ہی ملک کا سربراہ ہوگا یا پھر اپنے گریبانوں میں جھانکتے ہوئے ان کرپٹ لیکن ہمارے ووٹ کے محتاج سیاستدانوں کو موقع دیں اور ہر پانچ سال بعد ووٹ کی ہی طاقت سے انہیں فارغ کر دیں۔
Exactly and also i didn’t found where Rouf is supporting this govt.
He is just talking about the present judgment. I am agree with the
corruption charges on govt. Only i am not agree that they are the
only corrupt and the way to handle them. VOTE FOR RIGHT PEOPLE IS
THE ONLY SOLOUTION. No matter how many time we have to vote. Agitate
against the corrupt people bring them down with people power.
Contribute in the solution of the problem which is the true path
and history of the nations, don’t sit and watch only the talk shows.
آپ ووٹ کی کِس طاقت کی بات کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ جہاں ووٹر اپنی ”طاقت“ کے بل پر جلسوں سے سروں پر کُرسیاں اور لوہا لکڑی اُٹھا کر ”راہیِ عدم“ ہونے کو ترجیح دیں اور سرداروں، وڈیروں، چوھدریوں اور مَلکوں سے چھتر تناول فرما کر ”صندوُقڑیوں“ سے زورآوروں کے ووٹ پورے کریں۔ اِس نِصابی غلط فہمی کو عام کرنے سے پرہیز فرمایئں تاکہ عام ”عوام“ کا بھی بھلا ہو۔ اب اِسکا مطلب لشکریوں کی حمایت مت لیجئے گا۔ شُکریہ
کلاسرا صاحب، وزیراعظم کے کمیشن سے ہمیں تو کوئی امید نہیں، ہم پہلے بھی عدالت اعظمی کے ساتھ تھے اور اس فیصلے میں بھی اس کے ساتھ ہیں۔
سنا ھے کہ جب عد لیہ کی جی ایچ کیو میں عز ت ا فز ا ئ ھو ر ہی تھی تو کیا نی صا حب بھی اس عز ت ا فز ا ئ کر نے و ا لو ں میں شا مل تھے جنکا فقر ہ You may leave now judge just it was a bad day for you مگر جنا ب سو ا ئے ا یک جما عت کے با قی جو کو ئ جو کر ے ا سے سو خو ن معا ف
I think this is bit far fatched analysis, I still believes in democracy
منسوراعجاز قادیانی ھے۔وہ پیپلز پارتی سے بدلا لینا چاھتا ھے سیاستدان بھت کمزور ھے 60 سالو سے جرنلو کے چمچھے بنے ھی نواز شریف بے وفا لوھار ھے
روف صاحب کی ایک دبنگ تحریر واہ
Klasra sahb nay acha tajzeya kea hay….. Pns mehran, obl, etc, iss qesam k waqe’at ko nazar me rakha jae to pata chalta hay k civil.military balance civilian k favor main ta,, army bäckføøt pe te, aor ab apnay ap ko dobara assert krnay k leay ye memo masla banya hain..
سرف ایک لمحے کے لیے۔ اگر الزامات صحیح ھیں تب ٰآپ کا ردعمل کیا ھوگا۔
ہم کبھی ”کمزور لمحوں“ کے اسیر نہیں ہوتے ۔ ۔ ۔ سمجھا کریں نا ۔
ویسے اِنتہا پسند سُنتے ہی آپکے ذہن میں صِرف مولوی ہی کیوُں آتا ہے؟
agar siyasatdan apna qibla drust krte to aaj yeh din na deikhna parta.janab aisi corrupt govt. aj tak nhi deikhi hai kon sa idara chora hai inho nain aur sub jante hain jis tarha se judiciary k failon pe amal huwa hai.
وہ تمام لوگ جنہوں نے کلاسرا صاحب سے اختلاف کیا ہے میں ان کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کاش آپ سب نواز شریف کا بطور وزیر اعلی دور یاد کریں جب اس نے تمام ممبران اسمبلی کو پلاٹ اور ان کو سرکاری نوکریوں میں بغیر میرٹ کے میجر شیر دیا- اس وقت کے لوگ آج سنیر عہدوں پر براجمان ہیں جن سے آپ کیا امید رکھ سکتے ھیں- اس کے علاوہ پاکستان بھر کے سیاستدانوں اور اپنے پسند کے سرکاری غیر سرکاری افراد کو لاہور میں پلاٹ دیے جس کے متعلق سو کالذ اعلی عدالتوں میں کیس پڑے ہیں لیکن جن کو سماعت کرنا گناہ کبیرا سمجھاجاتا ہے ، ان پر غور کریں تو آپ کو ان کے خلوص کا پتہ چل جاے گا- ا
میاں چنوں سے عبدالرحمان صاحب کا تبصرہ سب سے مناسب اور درست ہے ہر باشعورپاکستانی اس کی تئےد کرے گا
عاصمہ اس لیئے بھڑکی کہ اس کے کلائنٹ کو ریلف نہیں مل سکا، یہ ایک قدرتی امر ہے ، چونکہ وہ سپریم کورٹ بار کی صدر بھی رہی تو اپنے قد کے مطابق اس نے الفاظ ڈھونڈے سپریم کورٹ کی توہین کے لیئے۔
پوری حکومتی مشینری کی آشیر باد سے وہ صدر بنیں، اتنا تو حکومت کا بھی حق بنتا ہے کہ اس کی سی زبان بولی جائے۔ ان چند لوگوں کو کلاسرا جیسے دوست پاکستان کے ماتھے کا جھومر بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ وہ قابل وکیل ہونگی لیکن اسکےاستعمال شدہ الفاظ اور بات کرنے کے انداز سے تو نہیں لگتا کہ وہ قابل ہیں۔ ہاں جیسے کسی گارڑی پر لگی مخصوص نمبروں کی پلیٹ اس کا قد کاٹھ بڑا دیتی ہے اسی طرح اس کے نام کے آگے انسانی حقوق کی چیمپئن کا لیبل ضرور ان کے قد میں اضافے کا سبب بنا ہے۔ جس طرح زرداری صاحب نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کاش یہ اعلی عدلیہ ان کے ماتحت ہوتی عاصمہ بی بی کے دل میں بھی یہ موجود ہے کہ جس کیس میں یہ سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوں اعلی عدلیہ ان کے سامنےسر تسلیم خم کر دے۔
کلاسرا کو میں کافی عرصہ سے پڑہ رہا ہوں لیکن ان کے خیالات سے ہر بار متفق ہونا ضروری نہیں۔
ہر کسی نے اپنی اپنی بساط کے مطابق تبصرہ کیا ہے اور بہت اچھے اچھے خیالات پڑھنے کو ملے۔
بات کریڈٹ کی، تو عوام کو کوئی بھی کریڈٹ نہیں دیتا، ہمیشہ بات اوپر اوپر تک ہی رہتی ہے۔رہی بات جج اور ملٹری اتحاد کی، تو کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ پہلے حالات کا جائزہ لے لیا جائے پھر کوئی قیافہ بنایا جائے۔ کیونکہ،،،،،،،،،،،،
ابھی آغاز عشق ہے روتا ہے کیا !
اگے اگے ویکھ کی کی ہوندا اے !
سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد کہ میمو کی حقیقت تک پہنچنا ضروری ہے اور اس کے لئے ملک کی اعلیٰ ترین عدالتوں کے چیف جسٹسز پر مشتمل عدالتی کمیشن قائم بھی کر دیا ،اس پر حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر صاحبہ نے جس شدید جھنجلاہٹ ، تلخ نوائی اور غم و غصّہ کا اظہار کیا ہے وہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ عدلیہ کے لئے انتہائی نا مناسب الفاظ کا اظہار ایک قانون داں کو زیب نہیں دیتا . وہ جس کمزور وکٹ پہ کھیلنے نکلی تھیں اس کا یہ ہی نتیجہ نکلنا تھا . محترمہ اگر بات فیصلے سے اختلاف کی حد تک رہنے دیتیں تو یہ ان کا حق تھا لیکن پوری بنچ پہ جانبداری اور بد نیتی کا الزام دھرنا ساتھ ہی عدالتی نظام کو پوشیدہ مقتدر طاقتوں کا آلہ کار قرار دینا نہ تو قرین انصاف ہے نہ ہی ایک ماہر قانون سے اس کی توقع کی جا سکتی ہے .
اور پھر بات یہیں پہ ختم نہیں ہوئی انہوں نے حسین حقانی کے کیس کو خالص فنی اور قانونی بنیاد پہ لڑنے کے بجےسیاست زده کرکے خراب کیا اور اب اس سے دست برداری کا اعلان بھی کر دیا .اس کے ساتھ ہی انہوں نے سپریم کورٹ کے نامزد کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے بھی انکار کر دیا جو ان کی طرف سے اعتراف شکست و بیچارگی ہے . کوئی امید بار نہیں آتی – کوئی صورت نظر نہیں آتی
عاصمہ جہانگیر نا صرف ایک معروف قانون داں ہیں بلکہ اپنی سیاسی جدوجہد ، حقوق انسانی کے پرچار ،اور مخصوص نظریات کے سبب ایک سماجی مقام اوراہمیت بھی رکھتی ہیں ان کی این – جی – او کو بھارت اور امریکا میں بھی خاصی پزیرائی ملتی رہی ہے .بلوچستان میں حقوق انسانی کی پامالی پہ بھی وہ نوحہ کناں رہتی ہیں . یہ اور بات ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم ، مسلم کش فسادات ، فاٹا میں معصوم شہریوں کا گولیوں ، بموں اور ڈرون حملوں کے زریعے قتل ، سوات میں خون ریزی ،یا سیلاب زدگان کا حال زار ان کے منشور اور مقاصد سے بہت بعید ہیں.
ایک حالیہ ٹی – وی انٹرویو میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ عدالت عظمیٰ فوج کے زیر اثر ہے اور اس کیس میں جانبدار ہے .وجہ اس کی فوج کا خوف ہے حالانکہ زیادہ پرانی بات نہیں کہ یہ ہی جج صاحبان اور عدلیہ تھی کہ پرویز مشرّف کی فوجی جبروت اور شخصی آمریت سے ٹکرائی تھی -یہ ہی جج صاحبان کشتۂ ستم بنے اور اپنے روزگار سے بھی محروم ہوئے ، ججوں کی جانبداری کی دلیل ان کے پاس یہ ہے کہ پوری بنچ نے متفقہ فیصلہ کیوں دیا . کوئی جج نہ تو ان کے زور بیان اور دلائل ( جو کہ سیاست زادہ تھے ) سے متاثر ہوا نہ ہی ان کے زرخیز ذہن سے سوچا ع ” یہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقف اضطراب – یہ کیا کہ ایک دل کو شکیبا نہ کر سکو
شاید اس سے زیادہ بودی دلیل کوئی وکیل نہ دے سکے . چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی سماعت کرنے والی بنچ جس کی سربراہی جسٹس رمدے نے کی تھی اس کا فیصلہ بھی تو شاید متفقہ ہی تھا . اور مشرّف کے مارشل لاء اور ہنگامی حالت کے نفاذ کو بلا جواز اور غیر آئینی قرار دینا کا فیصلہ بھی متفقہ تھا . کیا اس دلیل کا اطلاق ان فیصلوں پہ بھی ہوتا ہے ؟
ان کا ایک اور اعتراض یا دلیل یہ ہے کہ چیف جسٹس نے جنرل کیانی کا حوالہ دے کر میمو کے وجود کو کیوں تسلیم کیا ، عجیب بات ہے کہ خود عاصمہ نے امریکن جنرل جمیس جون کا بیان حلفی منگوا کر عدالت میں داخل کیا تو وہ ٹھیک تھا اور مستند بھی ،اسی پہ جناب وزیر اعظم نے مصرع طرح دیا کہ اس بیان نے میمو کا مسئلہ ختم کر دیا اور ان کے ہمنواؤں نے اس پہ دو غزلہ اور سہ غزلہ کہہ ڈالا ، سو امریکن جنرل کہے تو حق ہے اور پاک فوج کا سربراہ کہے تو باطل
” تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی – وہ تیرگی جو مرے نامہ سیاہ میں ہے
ایک اور بات جو انہوں نے اپنے شبہات اور اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہی وہ یہ تھی کہ فیض احمد فیض ، حبیب جالب اور ولی خان پہ بھی غدّاری کے الزامات لگے تھے . پہلی بات تو یہ ہے میمو کے مندرجات اور حسین حقانی کے کردار اور مقام کی ٱن سے کوئی مماثلت نہیں .دوسرے راولپنڈی سازش کیس کی حقیقت کا اعتراف ، اس میں شامل میجر اسحاق اور افضل بنگش اپنی تحریروں میں کر چکے ہیں ،یہاں ہمیں ان کی نِیَت اور مقاصد سے بحث نہیں . رہی بات حبیب جالب اور ولی خان کو غدّار قرار دینے کی وہ کسی فوجی آمر نے نہیں بلکہ جمہوری وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا .ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی پہ پابندی لگا کر جیل میں ڈالا اور غدّاری کا مقدمہ چلانے کے لئے خصوصی عدالت تشکیل دی . ایک فوجی آمر ضیاء الحق نے تو انہیں رہا کر کے کیس ختم کیا تھا .
کمیشن کے دائرہ کار میں کسی کو ملزم ٹہرانا نہیں بلکہ میمو کی حقیقت کو ثابت کرنا ہے .اگر وہ محض کاغذ کا بے حیثیت ٹکڑا ہے تو بھی پتہ چل جائے گا . آخر اتنا واویلا کیوں کہ حسین حقانی کی ایوان صدر اور وزیر اعظم کی رہایش گاہ کو بھی ایک قانون دان قانونی اور جیز کہ ڈالے. عاصمہ جہانگیر نے ایک بار پھر منصور اعجاز کے کردار ، اس کی امریکن شہریت اور پاکستان دشمنی کی بات کی ہے جو یہاں زیر بحث ہی نہیں ، نہ کوئی اس کا دفاع کر رہا .بہت مناسب ہوتا اگر وہ کمیشن کا بائیکاٹ نہ کرتیں اور وہاں منصور اعجاز پہ جرح کرکے اس کے پرزے اڑا دیتیں . ویسے مقطعے میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات . دوست اور پرانے ساتھی ہونے کے علاوہ حسین حقانی اور منصور اعجاز میں قدر مشترک یہ بھی ہے کہ دونوں کے پاس امریکن شہریت ہے اوردونوں میڈیا منیجر اور اونچا اڑنے کی شہرت رکھتے ہیں .
بہت اچھا لکھا اور بھر پور تبصرہ ہے۔
یہ جج کبھی نہیں انصاف کر سکیں گے-عوام کو انصاف مل نہیں رہا اور یہ اپنی شہرت کی دوڑ میں ہیں-انہوں نے بھٹو کو پھانسی دیتے ہوئے ثبوت نہیں دیکھے تو اب کیا دیکھیں گے————–پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے ،چائے وزیراعظم گیلانی ہوں،یا نواز شریف صاحب —–پہنچی وئیں پہ خاک ،جہاں کا خمیر تھا——–نواز شریف صاحب اپنے اصل ٹھکانے پر پہنچ گئے ہیں،لیکن اب عمران خان بھی وہاں موجود ہیں——-دیکھیے ،اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے–
میرا خیال ھے ک زیادھ تر تبصرھ کرنے والے جو کالم کو مفروضہ پر مبنی قرار دے رھے ھین جزباتی اور دور کی نظر رکھنے والے نھین۔ کالم پورا حقاٰعق پے مبنی ھے۔ نواز شریف نے نھ کبھی دور کی سوچی ھے نھ ایسی سوچ کی اس سے امید ھے۔اس کا سب سے برا ثبوت یہ ھے کے ضیا نے اسے گروم کیا کے اس کو ایسا شخص چاھئے تھا جو بغیر سوچے اس کی ھان مین ھان ملائے۔ عاصمہ نے دور کی اور گھری بات کھی ھے۔ کلاسرہ صاحب کو دلیرانہ اور کھری بات لکھنے پر سلام۔
فرمائشی کالم! افسوس ہوا۔ اس میں شک نہیں کہ فوج کا اقتدار میں آنا اب کسی کو بھی قابلِ قبول نہیں ۔ خود چیف جسٹس نے بھی کہا ہے کہ مارشل لا کبھی نہیں آئے گا۔ باقی رہ گئے زرداری اینڈ پارٹی تو ان کا احتساب تو ضرور ہوگا۔۔۔۔باقیوں کا بھی ہوگا۔۔۔فکر نہ کریں۔ کوئی نہیں بچے گا۔ اس میں شک نہیں کہ عاصمہ نے کیس اچھا لڑا۔ اس نے اپنی اہلیت بطور وکیل ثابت کردی ہے مگر جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے۔ زرداری کا دفاع بہت مشکل ہے کیونکہ اس سے اآپ کچھ بی توقع کر سکتے ہیں۔فیصلہ پاشا اور حکومت کے خلاف بھی اآسکتا ہے۔آگے آگے دیکھیئے ہوتا ہے کیا۔
زبردست
کاغزکےٹکڑے سے کیا نکلنے کا ڈر ھے–عاصمہ نے مرضی کے فیصلے کرانے کو عدلیہ بحالی تحریک مین حصہ لیاتھا- میمو کے تھیلے میں آخر ھے کیا جس کے نکلنے کا خؤف ھے
the whole colum of Mr. Rouf kalasar is based on assumption, or past bad experience, oftenly opinion maker made a mistake and build tomb on the base of previous bad experience. when we delighted we think different when we are sad we think differently in same situation. so i requested to all of our opinion maker do not loose their balance
عاصمہ جہانگیر کو علم ہونا چاہیے کہ عدالتوں کا کام عدل و انصاف کرنا ہے۔ پارلیمنٹ کیا ہے؟ چوروں ، ڈاکیوں اور لٹیروں کا ایک گروہ ہے جس میں قیامَ پاکستان سے پہلے کے وڈیرے ، پگاڑے، سردار وغیرہ وطن عزیز کو مسلسل لوٹنے میں مصروف ہیں۔ ۔ ۔ فوج اور سول بیوروکریسی اس لوٹ مار کا حصہ ہے۔۔۔۔ ایک مضبوط مثلث ہے جس کے تین کونے ہیں۔۔۔۔ جرنیل۔۔۔۔ بیورو کریٹس۔۔۔۔ ساستدان(وڈیرے + کار خانہ دار)۔۔۔۔ کسی کا بیٹا بیوروکریٹ ہے تو اُس کا چجا جرنیل ہے اور تایا سیاستدان۔۔۔۔ سولہ کروڑ عوام تو محض دل کے خوش رکھنے کا بہانہ ہیں۔ صحافیوں کی بہت بڑی تعداد کو محبت کے لفافے بھی ملتے ہیں۔۔۔۔۔بھائی۔۔۔۔ الیٹ اور کمی کمین کا فرق دنیا میں کہیں ختم نہیں ہوا اور نہ ہی ہونا ہے۔۔۔۔ جنگوں میں عام سپاہیوں ہی نےمرنا ہے۔۔۔قربانیاں عام لوگوں ہی نے دینا ہیں۔۔۔۔مذہب سے متعلق اعلی شخصیات اعلی خاندانوں ہی سے پیدا ہونی ہیں۔۔۔۔۔۔ عوام نے احمقوں کی طرح سیاسی اور مذہبی نعروں کے ہاتھوں ہمیشہ احمق ہی بننا ہے۔۔۔۔ بھلا عوام بھی کبھی خواص ہو سکتے ہیں؟ اتنی سمجھ بوجھ اگر عوام میں ہو تو وہ کبھی عوام نہ کہلائیں۔۔۔۔ اگر کچھ کرنا ہے تو سوچیں کہ عوام کو خواص کیسے بنایا جاسکتا ہے؟؟؟؟ یہ کر لیں تو شاید دنیا میں قدرَسکون ا جائے۔۔۔۔۔
بہت خوبصورت تححریر کلاسرہ صاحب! آپ بہت خوبصورتی سے اندھوں کے شہر میں آئنے بیچ رھے ہیں۔