ایسے ویسے کیسے لوگ ۔ ۔ ۔؟

Posted by admin  /   June 17, 2014  /   Posted in تبصرے, ڈاکٹر مجاہد مرزا  /   No Comments

(وسعت نظر: ڈاکٹر مجاہد مرزا)wolf-lamb

جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف، ملک سے چلے جائیں تو کیا آسمان گر پڑے گا ؟ نہیں بالکل نہیں۔ اور اگر ان کو عمر قید ہو جائے یا انہیں پھانسی دے دی جائے تو کیا پاکستان پہ آسمان سے ہن برسنے لگ جائے گا یا یک لخت خوشحالی فراواں ہو جائے گی؟ یہ سوال تو ویسے ہی مذاق لگتا ہے، ہے ناں؟ چلیں یہی بتادیں کہ کیا جمہوریت مضبوط ہو جائے گی؟ کچھ لوگ اس سوال کا بلا سوچے سمجھے دھڑلے سے ہاں میں جواب دے دیں گے۔

کچھ سوچ میں پڑ جائیں گے کہ کسی عمل سے جمہوریت تو اصل میں وہاں ہی مضبوط ہو سکتی ہے جہاں وہ پہلے سے مستحکم ہو۔ کچھ لوگوں کا خیال ہوگا کہ بالکل نہیں کیونکہ اس ادارے سے وابستہ اعلٰی پائے کے عہدیدار، جس کے وہ سابق سربراہ ہیں ان سیاستدانوں کے خاص طور پر بیری ہو جائیں گے جو جنرل (ریٹائرڈ) کے صاف نکل جانے کے مخالف ہیں۔ تو کیا وہ مسلم لیگ نون کی قیادت کے دشمن ہو جائیں گے؟ ان بیچ تو اب بھی کوئی ایسی دوستی دکھائی نہیں دے رہی۔ رہی پاکستان پیپلز پارٹی اور اے این پی، یہ تو انہیں ویسے ہی بالکل نہیں بھاتیں۔

البتہ یہ درست ہے کہ کسی بھی سیاستدان کو فوج کا بیر مول نہیں لینا چاہیے کیونکہ ہمارے ملک کی فوج بھی تھائی لینڈ اور برما کی فوج کی طرح سیاست دانوں سے زیادہ سیاستمدار ہونے کی رسیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر تو ویسے ہی جانے دو پرویز مشرف کو ۔ ہم نے امیرالمومنین جنرل ضیائالحق کا کیا بگاڑ لیا تھا۔ اگر آم کی پیٹیوں میں دھماکہ نہ ہوتا تو آپ، ہم سب، اور جو اب تک گذر چکے ہیں، مل کر بھی اس کا کیا بگاڑ لیتے؟

وہ تو بھلا ہو یہاں اور باہر والے اس کے اپنوں کا جنہوں نے کوئی ترکیب لڑا کر، امریکی سفیر اور دو ایک جرنیلوں سمیت اس کی قربانی دی تھی اور ایک بار پھر “جمہوریت” کے لیے راستہ نکال دیا تھا۔ پھر اس پہلے جنرل یحیٰی خان اور فیلڈ مارشل ایوب خان کا آپ نے کون سا بال بیکا کر لیا تھا، زیادہ سے زیادہ کسی کو شرابی اور عیاش کہہ کے دل کی بھڑاس نکال لی تھی تو کسی کو “کتا، کتا” کہہ کر منہ لٹکائے اپنی اپنی کچھاروں اور کھولیوں میں لوٹ کر اپنے ہی زخم چاٹتے رہے تھے۔ تو بھئی جانے دیں ناں ،پرویز مشرف کو بھی۔ ان کی ماں بیمار ہیں اور مستزاد یہ کہ موصوف کی اپنی ریڑھ کی ہڈی میں بھی ریخ بن چکی ہے۔ ہمارا تو اپنے ملک میں ویسے ہی علاج نہیں ہوتا جو باہر جا کر اپنا علاج کرا سکتا ہے، اسے ہم روکے رکھنے کی دہائی دے رہے ہیں۔

پرویز مشرف صاحب کوئی سال بھر سے زیادہ ہوچکا کہ یہاں ہیں۔ پہلے انہیں محبوس کر دیا، وہ بھی ان کے اپنے وسیع و عریض کنٹری ہاؤس نام کے محل نما گھر میں۔ عدالت جانے کے لیے نکلے تو سی ایم ایچ کے وی آئی پی سویٹ میں صاحب فراش ہو گئے۔ عدالت میں پیش ہوئے، فرد جرم لگ گئی، ساتھ ہی ضمانت بھی ہو گئی۔ اب وہ اپنے کنٹری ہاؤس میں اپنے کتوں سے کھیلنے لگے، مہمانوں کا استقبال کرنے لگے، الیکٹروموبیل پر کتے سمیت سیر کرنے لگے۔ دل میں آئی تو کراچی جا کر پھر سے موج مارنے لگے۔ غدار یا مجرم کے انداز کیا ایسے ہوتے ہیں؟

ہو سکتا ہے کہ کسی “مافیا باس” کے ہوتے ہوں لیکن ایسے لوگ تو روپوش رہتے ہیں، جنرل ریٹائرڈ موصوف کی طرح نہیں کہ کسی سے “ڈرتے ورتے” نہ ہوں۔ آپ کیسے لوگ ہیں جو انہیں زبردستی مہمان کیے ہوئے ہیں؟ آپ نے تو محاورہ “مان نہ مان، میں ترا مہمان” ہی غلط کر ڈالا۔ مہمان کہتا ہے کہ میں جانا چاہتا ہوں۔ آپ ہیں کہ مہمان کی راہ روکے ہوئے ہیں۔

آپ ہیں ہی ایسے لوگ جو خود تو کھیل نہیں سکتے لیکن کھلاڑیوں کے کھیلنے کو بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ ہیں ناں پنجابی “نہ کھیڈان گے تے نہ کھیڈن دیاں گے”۔ آپ کہیں گے کہ ہم بھلا کیوں ہوتے پنجابی، ہم تو کشمیری نژاد ہیں تو میاں جی کشمیر پنجاب سے کتنا دور ہے، سیالکوٹ سے کنکری پھینکو تو جموں پہنچ جاتی ہے۔ آپ پنجابی ہوں یا کشمیری، کھیل میں چاہے کتنی ہی اڑچنیں کیوں نہ ڈال لیں لیکن کھیل تو کھیل والوں کا ہے جو کھیلتے رہے ہیں اور آئندہ بھی انہیں کھیلنے سے آپ نہیں روک سکتے، چاہے وہ پس پردہ رہ کر ہی کیوں نہ کھیل رہے ہوں۔

سیاست دانوں اور سیاسی رہنماؤں کی چبھن بھی بجا ہے کہ یہ “کھلاڑی” جب چاہیں ، چت سامنے رکھ دیتے ہیں جب چاہیں پٹ نکال دیتے ہیں طرّہ یہ کہ چت بھی ان کی اور پٹ بھی ان کی۔ براہ راست نہ سہی بالواسطہ سہی۔ معاملہ صرف سیاستدانوں اور سیاسی کارکنوں تک ہی محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ عوام کی ذہنی تربیت کی جانی چاہیے جو سیاست کو برا نہ سمجھیں اور سیاست دانوں کو نرسری میں پل کر عوام کے کھیت میں لگنے والے، خود غرض، مفاد پرست اور بدعنوان خیال نہ کریں تو دوسری طرف کسی اور کی بے جا تعظیم و توقیر کے شیدائی بھی نہ ہوں۔

لیکن معاملہ بالکل برعکس ہے، اگر عوام کو آگاہی دی جاتی ہے تو کیا آپ جناب سیاسی ورکر جھٹ سے “وزیر دفاع” کا خود پہں لیتے اور انہیں کی مدافعت پہ مامور ہو جاتے جن سے آپ اپنی حفاظت کرنے سے یکسر قاصر ہیں۔ درست ہے کہ جنرل ظہیر الاسلام پر مضروب صحافی کے بھائی نے الزام لگایا تھا، یہ بھی درست ہے کہ ملزم کو مجرم بنا کر مشتہر کیا جانا بھی ناجائز ہے لیکن ملک دشمنی اور غداری بہر حال نہیں ہے۔ خیر میں اور آپ کون ہوتے ہیں اس بات کا فیصلہ کرنے والے۔

ویسے بھی ہمارے ملک میں غدار ٹھہرائے جانے کا چلن عام ہے، زید حامد جیسا شخص اٹھ کر معروف صحافیوں کو غدار گردان دیتا ہے اور اس کی پٹیشن سننے کی خاطر منظور بھی کر لی جاتی ہے، چاہے ڈیڑھ دو سال بعد ہی سہی۔

آپ نے بھی معاملہ عدالت پہ چھوڑا ہوا ہے کیا صرف یہ ثابت کرنے کی خاطر کہ آپ کا پرویز مشرف سے کوئی ذاتی عناد نہیں بلکہ آپ آئین کی پاسداری کر رہے ہیں۔ اب عدالت کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ شق چھ کے مطابق غدار ہیں کہ نہیں۔ آپ نے تو اپنی جانب سے انہیں غدار ثابت کرنا ہی چاہا ہے ناں، اب عدالت آپ کے دلائل تسلیم نہ کرے تو آپ بھی جنرل صاحب کے ساتھ ساتھ بے قصور کہ جی عدالت کہتی ہے تو ہم بھی مان لیتے ہیں کہ وہ بے قصور ہیں۔

اس کے برعکس چینل کی بندش پہ آپ کے “وزیر دفاع” ببانگ دہل کہتے ہیں کہ میں اپنے موقف پہ ڈٹا ہوا ہوں اور دی گئی سزا کم ہے۔ اس لیے کہ یہ سزا عدالت نے نہیں دی یعنی عدالتیں نہ ہوں اور آپ کا بس چلے تو آپ بھی اپنے مرّبی جرنیل کی طرح شہر شہر ٹکٹکیاں لگوا دیں پھر وہ جو پنجابی میں کہتے ہیں ناں کہ “دے مار تے ساڈھے چار”۔ ارے ایسے ویسے کیسے لوگو، انسان بنو جب تک پتّے میں پانی نہ ہو تو للکارا نہیں کرتے۔ کیا فوج کو عدالت کے منہ لگانا چاہتے ہو؟

تو بسم اللہ! تھوڑے ہی عرصہ پہلے جنرل اوچا چان نے خوشرو وزیر اعظم انگیلاک چینا وات کا تختہ الٹا ہے، بس سات ماہ کے ہنگاموں کی بنیاد چاہیے تھی۔ ہوش کرو عمران خان ویسے ہی میدان میں ہے، طاہرالقادری آنے والے ہیں، چوہدری صاحبان اور ایم کیو ایم والے لنگر لنگوٹ کس چکے ہیں۔ جانے دو، فوج سے خواہ مخواہ کا بیر مول نہ لو۔

Post a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

.Copyright ©2011-2014 Top Story Online