ضرب عضب عجب نہ ہو!

Posted by admin  /   June 17, 2014  /   Posted in slider, ڈاکٹر مجاہد مرزا  /   1 Comments

(وسعت نظر: ڈاکٹر مجاہد مرزا)pakistan-army

“پاک فوج نے بالآخر غضب ڈھانا شروع کر دیا” میں نے آج روسی زبان سے ترجمہ کردہ ایک مضمون پر بڑے فخر اور یقین کے ساتھ یہ سرخی جمائی۔ فخر اس بات پر کہ ہماری فوج مشکل وقت میں کبھی پیچھے نہیں ہٹی ماسوائے سقوط مشرقی پاکستان کے وقت جب نوے ہزار فوجیوں کو ایک ٹائیگر نے ہندوستان کے حوالے کر دیا تھا۔ یقین اس لیے کہ یہ عسکری کارروائی ماضی میں کی گئی کارروائیوں کی طرح ادھوری اس لیے نہیں چھوڑی جا سکتی کیونکہ اس کارروائی کو رسول کریم صلعم کی تلوار سے موسوم کیا گیا ہے۔

گننے والوں نے گن کر بتایا ہے کہ اس بار کی کارروائی دہشت گردوں کے خلاف جنہیں ہم اب تک انتہا پسند، بنیاد پرست، جنگجو وغیرہ کے نام دیتے رہے ہیں، ایک سو باسٹھویں کارروائی ہے۔ پھر اس بار کی کارروائی کا آغاز کرنے میں چند ماہ یا ایک سال نہیں بلکہ پورے سات سال لگائے گئے ہیں۔ اس عرصے میں شدت پرستوں کے گیارہ سے پندرہ سال کے بچے جوان ہو کر ان کی صفوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ اتنا انتظار کیوں کیا گیا؟

ظاہر ہے کہ سنپولیوں کو دودھ پلا کر ناگ اور اژدہے بنانے کا تو کسی بھی عاقل کو چہ جائیکہ وہ پاکستانی فوج کی سی شاطر کھلاڑی ہو، شوق نہیں ہوتا چنانچہ اتنا طویل صبر کرنے کی کوئی تو وجہ رہی ہوگی جسے کوئی “اثاثے” نام دیتا ہے تو کوئی “تزویری گہرائی” لیکن اس اثناء میں ہمارا بہت زیادہ نقصان ہو گیا۔ فون کے پانچ ہزار جوانوں و افسروں اور اسی طرح پچپن پزار بے قصور عام لوگوں کی جانیں چلے جانا تو ایک طرف رہا، ملک کا وقار پاسنگ نہیں رہا، لوگوں میں بے یقینی عام ہو چکی ہے، دہشت گردوں نے بڑے بڑے شہروں کی آبادیوں میں جگہیں بنا لی ہیں اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک کی آبادی کے ایک خاطر خواہ حصے کو وہ اپنا ہمدرد اور ہمزباں بنا چکے ہیں۔

سبھی مبصّریں متفق ہیں کہ محض فوجی کارروائی دہشت گردی جیسی برائی کا علاج شافی نہیں ہے۔ کارروائی کے ساتھ ساتھ پسے ہوئے لوگوں کی زندگیوں کے عذاب کم کرنے کے علاوہ ان کے اذہان بدلنے کی سنجیدہ سعی کرنی ہوگی۔ بصورت دیگر یہ یونانی اور ہندو دیو مالا کی وہ بلا ہے کہ جس کا ایک سر کاٹو تو دس نئے سر اگ آتے ہیں اور دس کاٹ ڈالو تو سو نئے سر پھوٹ نکلتے ہیں۔ 

فوج، حکومت اور فوجی کارروائی کے حامی خونی نہیں ہیں بلکہ وہ تو مجبور ہو کر خونیوں کا خاتمہ کرنے کی دلیل کے قائل ہو سکے ہیں۔ جمہوریت پسند لوگ امن پرست اور انسانیت نواز ہوتے ہیں۔ وہ ہلاکو خان کی مانند لوگوں کو قیدی بنانے کی بجائے مولی گاجر سمجھ کر اس طرح نہیں کاٹتے جس طرح پاکستان اور دنیا کے دوسرے خطوں میں یہ خونخوار کاٹتے پھر رہے ہیں۔ تازہ ترین مثال دولۃ الاسلامیہ فی العراق والشام کے جنگجووں کی انسانیت کش دہشت گردی ہے جس کا کہ وہ عراق میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔

حکومت پاکستان کے ایماء پر پاک فوج نے جس تازہ کارروائی کا آغاز کیا ہے اس میں ان دہشت گردوں کا اگر یکسر خاتمہ ممکن نہ بھی ہو تو ان کی کمر ضرور توڑی جانی چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ مقننہ کو بھی چاہیے کہ وہ انتہاپسند اور بنیاد پرستی کی ترغیب دینے والوں کے لیے کڑی سزائیں دینے کے قوانین وضع کرے تاکہ بعد میں اس قسم کے عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے میں آسانی رہے۔ جاسوسی کے نظام کو مضبوط و موثر بنانا ہوگا۔ نشاندہی کرنے والوں، گواہوں اور قانونی اداروں کی معاونت کرنے والوں کے تحفظ کو قانونا” یقینی بنایا جانا ہوگا۔

ان سب سے بڑھ کر یہ کہ بیانیہ تبدیل کرنا ہوگا۔ لوگوں کو یہ بتانا ہوگا کہ اسلام کا نام استعمال کرکے اپنے غیر انسانی افعال کے ذریعے اسلام کو بدنام کرنے والوں کے خلاف کس قسم کا رویہ اپنایا جانا چاہیے۔ فوج میں تربیت کے عمل کو مذہب سے علیحدہ کرنا ہوگا۔ اسلامی بنیاد پرست بھی اسلام کا نام لے کر بلکہ اپنے مطابق اسلام کے نام پر طاغوت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

اسلام کے نام لیواؤں کی بظاہر اسلام کے نام لیواؤں کے ساتھ لڑائی کے دوران کم پڑھے لکھے فوجی اہلکاروں کی سوچ میں بہت سے رخنے رہ جاتے ہیں، ان رخنوں کو پاٹنے کے لیے فوج کی کارروائیوں کے نام تک مختلف طرح کے رکھے جانے چاہییں۔

مثال کے طور پر تازہ نام ہی لے لیں، ضرب عضب۔ درست ہے کہ لفظ ضرب مستعمل ہے لیکن اتنا بھی نہیں جتنا کہ لفظ وار۔ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی اسلام کا نام لیوا ہو اور پیغمبر صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم سے منسوب کسی بھی شے کی تعظیم میں ہبہ بھر بھی کمی لے آئے چنانچہ بہتر ہوتا کہ عضب کی جگہ عضب کے معانی استعمال کر لیے جاتے جنہیں گوگل کی موجودگی کے باوجود ڈھونڈنے میں بہت پڑھے لکھے لوگوں کو بھی خاصا وقت لگا، یوں محض “کاری وار” کہہ دینے سے بھی مطلب حل ہو سکتا تھا۔

لوگوں کو ایک دوسرے کے اور باہمی عمل کے قریب لانے کا ایک پہلو یہ بھی ہے۔ اگر ہماری فوج کو بھی اسلام کے نام پر ہی لڑنا ہے تو پھر قوم کے نام پر لڑتے ہوئے معاملہ عجب بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اسلام تو قوم اور ملک سے آزاد مذہب ہے۔ قوم کو فوقیت دینے سے مذہب کی توقیر میں کوئی کمی نہیں آتی لیکن مذہب کے نام پر لڑائی کا حکم دیتے ہوئے لوگوں کے ایمان ڈگمگا سکتے ہیں کہ ہم اپنے مسمان بھائیوں کے خلاف کیا اس لیے لڑ رہے ہیں کہ وہ اپنی لڑائی کو شریعت کی بالادستی کی خاطر لڑائی کہتے ہیں۔

فوج میں جو نعرہ ایک سابق کماندار نے مروج کیا تھا یعنی ایمان تقوٰی جہاد فی سبیل اللہ، اس کے اثرات آج فوج میں اس حوالے سے دیکھے جا سکتے ہیں کہ فوجیوں کو بھی کافروں ( ہندووں، سکھوں، یہودیوں، امریکیوں) کے علاوہ کسی بھی بھیس میں کوئی اور دشمن کم ہی دکھائی دیتا ہے چنانچہ ضرب عضب کو عجب نہیں بلکہ باقاعدہ عضب کے معانی یعنی “کاری وار” کی طرح ہونا چاہیے اور ہمیں یقین ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔ اگر اللہ نے چاہا تو گننے والوں کو 163 گننا ہی نہیں پڑے گا۔

One Comment

  1. ًاحسن June 30, 2015 12:13 pm Reply

    بہت آچھا مضبون ھے

Post a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

.Copyright ©2011-2014 Top Story Online