ضرب عضب کی ناکامی المیہ ہوگا: اولسن

Posted by admin  /   October 16, 2014  /   Posted in slider  /   1 Comments

OLSONلندن (ندیم سعید): پاکستان میں امریکہ کے سفیر رچرڈ اولسن کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی سیاسی و فوجی قیادت کے اس اعلان کو خوش آئند سمجھتے ہیں کہ شمالی وزیرستان میں جاری ملٹری آپریشن میں ’اچھے اور برے‘ کی تفریق کیے بغیر تمام انتہاپسندوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، لیکن آپریشن کے بعد شدت پسند اگر دوبارہ اپنے ٹھکانے بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ پاکستان، افغانستان بلکہ سب کے لیے تباہ کن ہوگا۔

لندن میں قیام کے دوران امریکی سفارت خانے میں’ٹاپ سٹوری آن لائن‘ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دس سالوں میں پاکستان دنیا میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔اس لیے پاکستان کی طرف سے انتہاپسندوں کے زیر تسلط علاقوں میں ریاستی رٹ قائم کرنے کا فیصلہ راست اقدام ہے اور امریکہ اس کی حمایت کر تا ہے۔

(انٹرویو سنئے)

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ انتہاپسندوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی ہو رہی ہے تو ان کا کہنا تھا ’ہمیں آپریشن کے ختم ہونے اور اس کے بعد کی صورتحال کا انتظار کرنا ہوگا۔ اگر انتہا پسند دوبارہ منظم ہوجاتے ہیں اور اپنی کارروائیوں کے لیے پاکستانی سرزمین کو استعمال کرتے ہیں تو یہ ہم سب کے لیے المیہ ہوگا۔‘

افغانستان کے ساتھ امریکہ کے ’بائیلیٹرل سکیورٹی ایگریمنٹ‘ جسے اختصار کے لیے بی ایس اے کہا جا رہا ہے کے طے پانے پر رچرڈ اولسن کاکہنا تھا کہ علاقائی سلامتی کے لیے یہ معاہدہ بہت اہم ثابت ہوگا اور پاکستانی حکومت نے بھی اسے سراہا ہے۔ بی ایس اے کے تحت اس سال دسمبر میں امریکی افواج کے انخلاء کے بعد بھی تھوڑی تعداد میں امریکی اور نیٹو فوجی افغانستان میں رہیں گے ، جن کا کام افغان فوج کی تربیت اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کرنا ہوگا۔

امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ بی ایس اے کی موجودگی میں بین الاقوامی برادری کی طرف سے افغانستان کی مالی مدد کے لیے بون، شکاگو اور ٹوکیو میں کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد میں بھی مدد ملے گی۔

جب ان کی توجہ افغانستان پر بیرونی جارحیت سے متعلق معاہدے کی شق نمبر چھ پر دلائی گئی تو رچرڈ اولسن کا کہنا تھا کہ اس میں جو زبان استعمال کی گئی ہے اس کے تحت امریکہ کا کردار مشاورتی ہوگا۔ ’اسے دفاعی معاہدہ نہ سمجھیں اور نہ یہ شق نیٹو کی شق پانچ ہے(جس کے تحت نیٹو کے کسی رکن ملک پر حملہ نیٹو کے تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔)‘

امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اب ایک نئی حکومت ہے اور پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے موقع ہے کہ وہ باہمی تعلقات کو بہتر کریں۔ افغانستان کی نیشنل یونٹی گورنمنٹ بھی یہ چاہتی ہے جبکہ پاکستان پچھلے ڈیڑھ سال سے کابل کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ’ماضی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اسلام آباد اور کابل کو اب آگے دیکھنا چاہیے۔‘

واشنگٹن میں صدر اوبامہ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیہ میں خطے کی سلامتی کو جن شدت پسند تنظیموں سے خطرہ لاحق ہے ان میں داعش، القاعدہ،لشکر طیبہ، جیش محمد اور داؤد ابراہیم کی ڈی کمپنی کا تو ذکر تھا لیکن تحریک طالبان پاکستان کا نام نہ ہونے کی وجہ سے نمایاں تھا جبکہ پاکستان کی فوج اس کے خلاف ایک بڑا آپریشن کر رہی ہے اور پاکستان کی اندرونی سلامتی کو سب سے زیادہ خطرہ اسی تنظیم سے ہے۔

اس پر رچرڈ اولسن کا کہنا تھا کہ امریکہ ٹی ٹی پی کو ایک انتہائی خطرناک اور خوفناک تنظیم سمجھتا ہے۔’اس کے خلاف کارروائی میں ہم پاکستان کی بھرپور معاونت کر رہے ہیں ۔ گزشتہ تیرہ سالوں میں دہشت گردی سے نبٹنے میں پاکستانی فوج کی بھی کافی مدد کی ہے، خاص طور پر حالیہ پانچ سالوں میں امریکہ نے اس حوالے سے ایک ارب ڈالر سالانہ فراہم کیے ہیں۔‘

پاک امریکہ تعلقات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا پچھلے دو سالوں میں ان میں ایک بار پھر بہتری آئی ہے اور باہمی احترام کی بنیاد پر یہ مزید آگے بڑھ رہے ہیں۔ ’پاک امریکہ تعلقات انیس سینتالیس سے ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، لیکن اس دفعہ ان کی بنیاد اعتدال پر مبنی ہے۔‘ تعلقات میں اس میانہ روی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پہلے پندرہ ورکنگ گروپ ہوا کرتے تھے اب صرف چھ ہیں۔

پاکستان کی موجودہ سیاسی ہلچل پر امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ یہ ایک اندرونی معاملہ ہے اور اس میں امریکہ کسی ایک فریق یا جماعت کے حق یا خلاف نہیں۔ ’ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور اگر آئین سے ماورا سیاسی تبدیلی کو شش کی گئی تو اسے ہماری حمایت حاصل نہیں گی۔‘

پاکستان میں فوجی مداخلتوں کی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے اگرکسی موقع پر فوج سیاسی محاذ پر ایک بار پھر سامنے آنے کافیصلہ کرتی ہے تو امریکہ کیا مؤقف اختیار کرے گا۔ اس پر رچرڈ اولسن کا کہنا تھا ’سفارت کاروں کو مفروضوں پر بات کرنے کی تربیت نہیں دی جاتی لیکن اس پر ہمارا مؤقف بہت واضح ہے، جو بھی خلاف آئین اقدام اٹھائے گا وہ ہماری حمایت سے محروم ہوگا۔‘

One Comment

  1. Imam Bakhsh October 16, 2014 11:59 am Reply

    Outstanding recommence of TSO (y)

Post a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

.Copyright ©2011-2014 Top Story Online